شائستہ زبان عمران کی ڈیمانڈ نہیں ،بیرسٹر گوہرانکو بزدل لگتے ہیں،تجزیہ کار

01 اکتوبر ، 2024

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے سوال کیا وزیراعلیٰ کے پی سے متعلق مولانا فضل الرحمٰن کا بیان درست ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے ارشاد بھٹی ، محمل سرفراز ،سہیل وڑائچ اور آصف بشیر چوہدری نے کہا ہے کہ علی امین گنڈا پورعمران خان کی توقعات کے مطابق سلطان راہی والی فلموں کے بیانات دیتے رہیں گے،شائستہ زبان عمران خان کی ڈیمانڈ نہیں ہے اس لئے بیرسٹر گوہر ان کو بزدل بھی لگتے ہیں ،مولانا فضل الرحمٰن ایک طر ف انتخابات کو جعلی قرار دیتے ہیں ساتھ ہی پی ٹی آئی کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں،علی امین گنڈا پور سے کہنا ہے کہ انقلاب کا پتہ ہے کہ ہوتا کیا ہے ،انقلاب لانے کے لئے کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن سے کوئی پوچھے کہ آپ کا مینڈیٹ تھا کتنا جو چوری ہوا ہے۔آپ خود جاکر پشین سے جیتے ہیں آ پ کا حال جو عوام نے کیا ہے وہ ساری دنیا کو پتہ ہے۔علی امین گنڈا پور سے کہنا ہے کہ انقلاب کا پتہ ہے کہ ہوتا کیا ہے ۔ انقلاب لانے کے لئے کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔کیا یہ انقلاب کافی نہیں ہے کہ آپ وزیراعلیٰ کے پی ہیں اس سے بڑا اور انقلاب کیا آسکتا ہے۔لاء اینڈ آرڈر ٹھیک نہیں ہے، شام کو حکومت غائب ہوجاتی ہے دہشت گرد آجاتے ہیں۔ کے پی میں گورنر راج لگانے کے لئے یہ سارے جواز پیدا کئے جارہے ہیں۔عمران خان تین مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ بیرسٹر گوہر قابل نہیں ہے کہ اسے پارٹی چیئرمین بنایا جائے۔ تجزیہ کارمحمل سرفرازنے کہا کہ گنڈا پورکا جو بیان ہے ایک صوبے کے وزیراعلیٰ براہ راست دھمکی دے رہے ہیں۔ایک صوبے کے وزیراعلیٰ دوسرے صوبے کو دھمکی دے رہے ہیں۔ریاست اس چیز کو کس طریقے سے ڈیل کرے گی ایسے بیانات کی مذمت کرنا چاہئے۔اس میں ایک نسلی عنصر بھی آجاتا ہے اس سے فیڈریشن کو بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے بجائے اس کے کہ گنڈا پور گورننس کے مسائل پر فوکس کریں اور دہشت گردی پر کیا پالیسی ہونی چاہئے ۔مینڈیٹ چرانے والی جو بات ہے بظاہر یہ درست نہیں لگتی۔الیکشن سے قبل بھی پی ٹی آئی کی ہی جیت نظر آرہی تھی۔شائستہ زبان عمران خان کی ڈیمانڈ نہیں ہے اس لئے بیرسٹر گوہر ان کو بزدل بھی لگتے ہیں۔ تجزیہ کارسہیل وڑائچ نےکہا کہ گنڈا پور بہت اونچی سیاست کررہے ہیں۔گنڈا پور اپنے ان ایکشن کی وجہ سے عمران خان کے بعد سخت گیر بن گئے ہیں۔تحریک انصاف میں ایسے ہی لیڈروں کو پذیرائی ملتی ہے جواس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ترقی کے زینے طے کرتے ہوئے وہ عمران خان کے ساتھ جا کھڑے ہوئے ہیں باقی قیادت پیچھے رہ گئی ہے۔مولانا کو اگر مستقبل کی سیاست پر نظر رکھنی ہے تو وہ یہی کہیں گے کہ میرے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے ۔مولانا فضل الرحمٰن ایک طر ف انتخابات کو جعلی قرار دیتے ہیں ساتھ ہی پی ٹی آئی کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ تجزیہ کارآصف بشیر چوہدری نےکہا کہ علی امین گنڈا پور جس عہدے پر ہیں جس کردار میں ہیں اس کردار کی ایک ڈیمانڈ ہے۔ وہ ڈیمانڈ یہی ہے کہ وہ عمران خان کی توقعات کے مطابق سلطان راہی والی فلموں کے بیانات دیتے رہیں۔اگر انہوں نے کوئی مفاہمت کی بات کی تو وہ شاید ناپسندیدہ ہوجائیں گے۔گنڈا پور پارٹی قائد کو خوش کرنے کے لئے اس طرح کے بیانات دیتے ہیں۔ا یک طرف گنڈا پور کے لئے ضرور ی ہے کہ وہ تیس مار خان والے بیانات دیں۔انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ اگر عملی طور پر وہ ان چیزوں کی طرف جائیں گے تو کوئی نہ کوئی نتائج ان کے اوپر آئیں گے۔ایک مشکل رول کو نبھا رہے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ کب تک نبھاتے ہیں۔