پی آئی اے نجکاری، 6 ممکنہ خریداروں کا عملہ برقرار رکھنے میں ہچکچاہٹ

04 اکتوبر ، 2024

اسلام آباد( اسرارخان ) پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کو خریدنے میں دلچسپی رکھنے والی 6 پیشگی بولی لگانے والی جماعتوں نے موجودہ ملازمین کو برقرار رکھنے میں ہچکچاہٹ ظاہر کی ہے اور ٹیکس کے مسائل پر خدشات کا اظہار کیا ہے، نجکاری کمیشن کے حکام نے جمعرات کو ایک پارلیمانی پینل کو تصدیق کی۔یہ ریمارکس سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس کے دوران سامنے آئے، جہاں چیئرمین طلال بدر نے مالی بولی کی ملتوی ہونے کی وجوہات پر سوال اٹھایا، جو ابتدائی طور پر یکم اکتوبر کو مقرر تھی۔ اب یہ بولی 31 اکتوبر کے لیے دوبارہ مقرر کی گئی ہے۔نجکاری کمیشن کے سیکریٹری عثمان باجوہ نے کہا کہ ان جماعتوں نے حکومت سے موجودہ ملازمین کی سروس اور پینشن کے حوالے سے بھی وضاحت طلب کی ہے۔بولی لگانے والی کمپنیوں نے ایئرلائن کے 18 طیاروں کے لیے وارنٹی اور پرانے مقدمات سے تحفظ کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بولی کی آخری تاریخ میں مزید توسیع نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔کمیٹی کے چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ پی آئی اے کی نجکاری حکومت کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پی آئی اے کی نجکاری بروقت مکمل نہ ہوئی تو اس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیلامی کے عمل میں بار بار کی تاخیر بین الاقوامی سطح پر مثبت تاثر نہیں دے رہی۔ انہوں نے زور دیا کہ 31 اکتوبر کی آخری تاریخ کو ہر صورت پورا کیا جانا چاہیے۔باجوہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پی آئی اے کی نیلامی کی تاریخ میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سرمایہ کاروں کو پی آئی اے کے 200 ارب روپے کے واجبات، ملازمین اور ان کی پینشن سے متعلق مسائل پر تشویش ہے۔سرمایہ کاروں نے ایئرلائن کے 18 طیاروں کے لیے ایک سال کی وارنٹی اور جاری مقدمات سے تحفظ کی درخواست کی ہے۔ باجوہ نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ نجکاری کمیشن ملازمین کے لیے ملازمت کا تحفظ فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، اور کہا کہ زیادہ تر مسائل حل ہو چکے ہیں