سندھ، جامعات کروڑوں روپے کے غیر ترقیاتی اخراجات کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام

04 اکتوبر ، 2024

حیدرآباد (رپورٹ/اے بی سومرو) سندھ کی جامعات کروڑوں روپے کے غیر ترقیاتی اخراجات کا ریکارڈ آڈٹ حکام کو پیش کرنے میں ناکام‘ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے ریکارڈ کی فراہمی کی درخواستوں کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق مالی سال 2021-22ءکے لیے سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے انتظامی کنٹرول میں آنے والی درج ذیل یونیورسٹیوں کے آڈٹ کے دوران یہ دیکھا گیا کہ انتظامیہ نے بار بار درخواستوں کے باوجود آڈٹ ریکارڈ فراہم نہیں کیا جس کی وجہ سے 71 کروڑ 20لاکھ روپے سے زائد کا آڈٹ نہیں ہوسکا۔ ریکارڈ فراہم نہ کرنا قوانین کی خلاف ورزی تھی جس سے یہ اخراجات آڈٹ کے بغیر رہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق آئی بی اے یونیورسٹی سکھر کی انتظامیہ نے 2021-22ءکے جنرل پروویڈنٹ فنڈ کے 425.933ملین روپے‘ قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ‘ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی شہید بینظیر آباد کی جانب سے 2021-22ءمیں ملازمین کی بھرتی اور پروموشن کی مد میں 254.553ملین روپے اخراجات کا ریکاڈ پیش نہیں کیا‘ اسی طرح ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (DUHS)‘ کراچی کی انتظامیہ نے بھی 2021-22ءکے دوران 25 ملین سے زائد کے قرض حسنہ‘ سامان کی نقل و حمل/بورڈنگ اور قیام کی مد میں 1.685 ملین کا ریکارڈ پیش نہیں کیا دوسری جانب جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کراچی کی جانب سے بھی بلڈنگ اور دکانوں کے کرایوں کی وصولی کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔