G7ممالک غیرقانونی تارکین کی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کو تباہ کرنے پر متفق

06 اکتوبر ، 2024

لندن (پی اے) G7ممالک غیرقانونی تارکین کی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کو تباہ کرنے پر متفق ہیں۔ وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ G7کے اینٹی اسمگلنگ پلان سے برطانیہ کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو تقویت ملے گی اور بارڈر سیکورٹی، منظم جرائم کا قلع قمع کرنے اور انسانی اسمگلروں کے ہاتھوں بے بس افراد کو استحصال سے بچانے میں بڑی مدد ملے گی۔ قانون نافذ کرنے والی ٹیمیں کرمنلز کے اسمگلنگ کے راستوں کے بارے میں مشترکہ تفتیش اور کارروائی کریں گی جبکہ G7 ممالک کے درمیان انٹیلی جنس کے تبادلے سے اس خطرناک نیٹ ورک کا تیزی سے پتہ چلا کر ان کو ختم کرنا یقینی ہوسکے گا۔ اس سے بارڈر سیکورٹی کمانڈ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا اور اس کے نئے کمانڈر مارٹن ہیوٹ برطانیہ میں غیر قانونی مائیگریشن میں کمی کرنے کیلئے پارٹنرز کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ اس پلان کے تحت جن دیگر اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، ان میں بہترین کارروائیوں کا تبادلہ، لوگوں کی اسمگلنگ کیلئے استعمال ہونے والی سپلائی چین کو توڑنا، کرمنلز کے غیر قانونی مالی اثاثوں کی ضبطی، عالمی ٹرانسپورٹ روٹس پر تعاون کو مزید بہتر بنانا، نقصاندہ مواد ہٹانے کیلئے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والوں کے ساتھ مل کر کام کرنا، علاقائی اور عالمی سطح پر غیر قانونی امیگریشن کی کوششوں کو مانیٹر کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا شامل ہے۔ یہ معاہدہ اٹلی کے شہر اویٹینو میں ہونے والے G7 کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں وزیر داخلہ کے بحث ومباحثے کے بعد ممکن ہوا۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اپنے کلیدی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ مستحکم کرنے کے موجودہ حکومت کی خواہش کی جانب یہ ایک بڑا قدم ہے۔ وزیر داخلہ یووٹ کوپر کا کہنا ہے کہ اسمگلروں کے کرمنل گینگز نے جو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو چینل کراس کراتے ہیں، ہماری بارڈر سیکورٹی کا غلط اندازہ لگایا ہے اور لوگوں کی زندگیاں دائو پر لگا رہے ہیں۔ ہماری حکومت ان خطرناک گینگز کے خلاف کارروائی کیلئے تیزی کے ساتھ دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون بڑھارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ پلان پوری دنیا کے ساتھ مل کر کام کرنے کے بارے میں ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس پلان سے غیرقانونی مائیگرنٹس کو رضاکارانہ یا جبری ان کے اپنے وطن واپس بھیجنے میں مدد ملے گی، اس کا مقصد مائیگرنٹس کو مزید متبادل پیش کرنا اور مائیگریشن میں اضافے کے پیش نظر مجموعی طورپر منیجمنٹ کو بہتر بنانا ہے۔ مارٹن ہیوٹ کی قیادت میں، جن کے پاس انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان رابطے اور قانون کے نفاذ کے حوالے سے زیادہ اختیارات ہوں گے، یورپی ایجنسیوں کے ساتھ تفتیشی عمل میں تعاون کریں گے اور انھیں جدید ٹیکنالوجی سے، جو 75 ملین پونڈ سے لگائی جارہی ہے، استفادہ کا موقع ملے گا۔