خان صاحب کو سمجھ آگیا وہ شکنجے سے نکل نہیں سکتے، فیصل واوڈا

06 اکتوبر ، 2024

کراچی(ٹی وی رپورٹ) سینٹر فیصل واؤڈا نے کہا ہے کہ خان صاحب کو یہ سمجھ آگیا ہے کہ وہ پھنس گئے ہیں اب اور اس شکنجے سے باہر نہیں نکل سکتے ان کو تو امید نہیں تھی کہ ملک پٹری پر آجائے گا اس کا کریڈٹ ایس آئی ایف سی کو جاتا ہے ۔ پی ٹی آئی کا احتجاج پانی کا بلبلہ ہے، مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے جنرل فیض حمید کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے ملک میں تباہی پھیر دی تھی ۔پی ٹی آئی حکومت کے پی کے بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ اگرگنڈا پور کو گرفتار کر لیا گیا ہے تو ہر کارکن احتجاج کو لیڈ کریگا۔ عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا یک نکاتی ایجنڈا عمران خان کی رہائی ہے۔ان خیالات کا اظہار ان شخصیات نے جیو نیوز کے پروگرام ’ نیا پاکستان ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عدالت اس صورتحال کا جو پی ٹی آئی کی پیدا کردہ ہے نوٹس لے کیونکہ ایک بہت بڑا ایونٹ اسلام آباد میں ہونے جارہا ہے ایسے موقع پر پی ٹی آئی کی جانب سے یہ اقدام کوئی نیا نہیں وہ اس سے پہلے بھی ایسے مواقعوں پر اسی طرح کے کام کرچکی ہے ۔ احتجاج کے لئے سرکاری لوگ استعمال کئے جارہے ہیں کے پی کے سرکاری لوگ خان صاحب اپنے بچوں کو کیوں لے کر نہیں آرہے ہیں اپنے بچوں کو لے کر آئیں کیوں غریبوں کے بچوں کو استعمال کررہے ہیں ۔ ادھر یہ حال ہے کہ ایک صوبے کی تمام تر سرکاری مشینری دارلحکومت میں یرغال کے لئے استعمال کی جارہی ہے ان کا منصوبہ لاشیں گرانے کا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنا کام کرے اور غبارے میں سے ہوا نکالے ۔ ان کو کوئی مناسب جگہ دے جہاں یہ احتجاج کریں پی ٹی آئی کا احتجاج صرف ایک پانی کا بلبلہ ہے اس کے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔ حکومت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس نے ایک مچھر پارٹی کے احتجاج میں مچھر کو مارنے کے لئے تلوار نکال لی ہے اور اب توپ بھی نکال لی یہ میری نظر میں حکومت کا نکماپن ہے ۔ احتجاج اتنا بڑا نہیں تھا جتنا کہ حکومت نے بنادیا جس کے بعد اب معاملہ ہے ریاست کے پاس اور ریاست پاکستان کے لئے اور پاکستان میں جو 27سال بعد مہمان آنے والے ہیں ان کے لئے اپنے پاکستانیوں کے لئے اپنے ہاتھ میں ڈی چوک لے لیا ہے اب کسی کا باپ بھی کچھ نہیں کرے گا ۔ میں کہتا ہوں کہ علی امین گنڈا پور ڈی چوک نہیں آئے گا ۔ میں بارہا کہہ چکا ہوں جو دکھائی دے رہا ہے وہ بک نہیں رہا اور جو نہیں دکھائی دے رہا وہ بک رہا ہے مجھے مجبور نہ کریں کہ میں قوم کے سامنے چیزیں کھول کر رکھ دوں ۔