اسلام آباد مفلوج، PTI، پولیس جھڑپیں، کے پی پولیس کے 11 اہلکاروں، 120 افغانوں سمیت 564 گرفتار، شیلنگ، کئی زخمی

06 اکتوبر ، 2024

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، جنگ نیوز)تحریک انصاف کے احتجاج اورشنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے پیش نظر اسلام آبادکو فوج کے حوالے کردیاگیا، جڑواں شہروں میں دفعہ 144نافذ کرکے اہمہوگئی، دن بھر اسلام آباد کے چائنہ چوک، جناح ایونیو اور دیگر مقامات پر تصادم اور شیلنگ کا سلسلہ جاری رہا ،پی ٹی آئی کارکن پتھرائو کرتے اور شیل اٹھا کر واپس سیکورٹی اہلکاروں پر پھینکتے رہے ، ڈی چوک پر وقفہ قوفہ سے تصادم اور پتھرائو سے متعدد کارکن زخمی ہوگئے، بارش سے دھرنے کے شرکا پریشان رہے، احتجاج کے باعث جڑواں شہر میں معمولات زندگی متاثر رہی، میٹرو اور موبائل فون سروس بند ہے۔تحریک انصاف کے احتجاج اورشنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے پیش نظر اسلام آبادکو فوج کے حوالے کردیاگیا، جڑواں شہروں میں دفعہ 144نافذ کرکے اہم مقامات پر فوج تعینات کردی گئی جبکہ فوجی گشت بھی جاری ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی کارکن اسلام آباد میں داخل ہوگئے ،اس دوران مختلف مقامات پر پولیس کے ساتھ تصادم میں ہوا،مظاہرین نے پتھرائو جب کہ پولیس نے آنسوگیس کی شیلنگ کی۔ ڈی چوک پہنچنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں ، متعددکارکن گرفتار کر لیے گئے ،ڈی چوک میں حالات خراب ہوگئے،پی ٹی آئی کارکنان نے درختوں کو آگ لگادی۔سیکورٹی فورسز نے ڈی چوک سیل کردیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے مظاہرے میں شریک 564 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں خیبرپختونخوا پولیس کے 11 سادہ لباس اہلکار بھی شامل ہیں،پولیس اور پی ٹی آئی کے درمیان اسلام آباد کے چائنہ چوک، جناح ایونیو اور دیگر مقامات پر تصادم جاری ہوا،ٹیکسلا ٹھٹہ خلیل کے مقام پر پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی۔ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر جوابی پتھراؤ اور شیل اٹھا کر واپس پھینکنے کا سلسلہ کافی دیر جاری رہا۔ شدید مزاحمت کے بعد پی ٹی آئی مظاہرین نے پتھر گڑھ کٹی پہاڑی کے مقام پر رکاوٹوں کو عبور کرلیا۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور قافلے کے ساتھ اسلام آباد پہنچ گئے وہ وہاں پر قائم کے پی ہاؤس میں داخل ہوگئے جب کہ جگہ جگہ چھوٹے اور بڑے قافلے اسلام آباد کے مختلف مقامات پر موجودرہے جن میں چائنہ چوک، جناح ایونیو اور دیگر مقامات شامل ہیں جہاں کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا ۔ کارکنوں نے پتھراؤ اور پولیس نے بڑے پیمانے پر شیلنگ کی، کارکن غلیلوں کے ساتھ کنچے بھی مارتے رہے۔وزیراعلیٰ کے پی کی گرفتاری کے لیے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کے پی ہاؤس پہنچی جو ساتھ قیدی وین بھی لائی، پولیس اور رینجرز کے پی ہاؤس میں داخل ہوئی ۔چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور سے ملنے خیبرپختونخوا ہاؤس پہنچ گئے۔وزیراعلیٰ کے پی کے مشیر بیرسٹر سیف اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے علی امین گندا پور کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ، تاہم بعد میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ کے پی ہاؤس میں انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جس میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی، غیر قانونی مقدمات کے خاتمے سمیت دیگر مطالبات پیش کیے گئے ہیں،سرکاری ذرائع نے بھی پہلے علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کی تردید کی ،مگربعد میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیر اعلیٰ کے پی کی گرفتاری کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کردیا،پی ٹی آئی کارکنان چائنہ چوک سے بھی آگے نکل آئے اور ڈی چوک کے بالکل قریب پہنچ گئے جس کے بعد پولیس نے ڈی چوک سے میڈیا کی گاڑیوں کو ہٹانے کا حکم دے دیا۔ پولیس نے کارکنان پر ایک بار پھر شیلنگ کرتے ہوئے انہیں پیچھے دھکیل دیا ۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فوج کو مظاہرین کے خلاف لاٹھی چارج، آنسو گیس کی بھی اجازت ہو گی، طاقت کا کم سے کم استعمال کیا جائے گا، شرپسندوں کی موجودگی یا خطرات کی اطلاع پر فوج کارروائی کرے گی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے مظاہرے میں شریک 564 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں خیبرپختونخوا پولیس کے 11 سادہ لباس اہلکار بھی شامل ہیں۔ڈی چوک اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد پر وزیراعلیٰ کی قیادت میں دھاوا بولا گیا اور کوشش کی گئی کہ کوئی جانی نقصان ہو مگر شکر ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جس کی وجہ سے ان کے ارمان پورے نہیں ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کے اہلکار سادہ کپڑوں میں مظاہرے میں شامل ہوئے، پاکستان میں پہلی بار پولیس کو مظاہرے کیلیے استعمال کیا گیا ہے۔ پولیس نے 564 مظاہرین کو گرفتار کیا جن میں 11 کے پی پولیس کے اہلکار اور 120 افغان باشندے بھی شامل ہیں۔خیبرپختونخوا پولیس کے اہلکاروں کو ڈی چوک سے گرفتار کیا گیا جس کے بعد وزارت داخلہ نے تحقیقات شروع کردیں اور اس کی رپورٹ وزیراعظم کو ارسال کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین کا مقصد شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس تک دھرنا دینا تھا مگر ہم نے انتہائی تحمل کے ساتھ صورت حال کو کنٹرول کیا جبکہ کچھ عناصر چاہتے تھے کہ لاشیں گریں، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہترین انداز سے فرائض انجام دیے،وزیرداخلہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی سمیت اسلام آباد پر دھاوا بولنے، پولیس پر تشدد کرنے والوں اور تخریب کاری کا حکم دینے سے لے کر کارکنوں سب کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا اور وزیراعلیٰ سمیت جو بھی عناصر ملوث ہوئے اُن کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پولیس پر حملہ کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، مظاہرین نے دور تک جانے والےا ٓنسو گیس استعمال کیے، اسلام آباد پر دھاوا بولنے والے مسلح جتھوں میں تربیت یافتہ دہشت گرد بھی شامل تھے۔دوسری جانب آئی جی پنجاب نے کہا کہ پولیس پر براہ راست گولی چلائی گئی، اس کے باوجود بھرپور کوشش سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پاکستان محفوظ تھا اور رہے گا۔احتجاج کے باعث جڑواں شہروں میں معمولات زندگی دوسرے روز بھی متاثر رہے ،داخلی اور خارجی راستوں پر کنٹینرز موجود ہیں، میٹروبس ، تمام بڑی شاہراہیں اور موبائل فون سروس بند ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔رات گئے قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے وفاقی دارالحکومت کی اہم شاہراہوں کو کھول دیا،ذرائع کے مطابق جناح ایونیو سے فیصل ایونیوتک تمام پلازوں اور دیگر عمارتوں کی تلاشی لی گئی کہ کہیں ان میں کوئی شرپسند عناصر توموجود نہیں ،پولیس اور رینجرزکو وزارت داخلہ کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اسلام آباد کی تمام بڑی مارکیٹوں،ہوٹلوں ،گیسٹ ہاؤسز کو چیک کیاجائے کہ وہاں کوئی شخص غیرقانونی طور پر قیام پذیر تونہیں ،ادھر اسلام آباد پولیس کے ذرائع کاکہنا ہے کہ ڈی چوک ،چائنہ چوک ،جناح ایونیو سمیت تمام علاقہ رات گئےکلیئر کروالیاگیا جبکہ موٹروے ،جی ٹی روڈ اورکشمیر ہائی وے سمیت اہم شاہراہوں پر ٹریفک بحال کردی گئی ہے ۔