احتجاج کا مقصد ایس سی اواجلاس کو سبوتاژ کرنا ہے، وفاقی وزراء

06 اکتوبر ، 2024

لاہور،سیالکوٹ(خصوصی نمائندہ، نیوزرپورٹر، کورٹ رپورٹر ،کرائم رپورٹر سے،نمائندہ جنگ ) وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی احتجاج کا مقصد ایس سی او(SCO)کو سبوتاژ کرنا ہے،قافلے میں افغانوں کی موجودگی پر تشویش ہے ،پلاننگ ہورہی ہے ،احتجاج کے مقاصد کچھ اور ہیں ،نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کیلئے وقت کا چناؤ افسوسناک اور قابل مذمت ہے،سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 1997 کے بعد پاکستان میں عالمی اہمیت کے حامل ایس سی او سربراہی اجلاس سے پہلے احتجاج پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت کمزور کرنے کی دانستہ کوشش ہے، احتجاج اور افراتفری پھیلانے کا مقصد ایس سی او کے ایجنڈے میں خلل ڈالنا ہے،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے خطاب کے لیے پاکستان کے دورے پر آئے وزیر خارجہ کو عوامی سطح پر مدعو کرنا بھی سیاسی فائدے کیلئے قومی مفاد اور ایس سی او سربراہی اجلاس کو نقصان پہنچانے کی کھلی کوشش ہے،اسلام آباد میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی قافلے سے پولیس اہلکاروں پر مسلسل فائرنگ اور شیلنگ کی جا رہی ہے، شرپسند پولیس پر پتھراؤ بھی کر رہے ہیں، 80 کے قریب پولیس اہلکار زخمی ہوئے چیک کررہے ہیں کہ ان کے پاس آنسو گیس کے شیل کیسے اور کہاں سے آئے، پولیس پر فائرنگ کی گئی یہ کیسا پُرامن احتجاج ہے، انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 120 افغان شہری پکڑے گئے جوکہ تشویشناک ہے، ساری صورتحال کے ذمے دارعلی امین گنڈا پور ہیں، وزیر اعلیٰ کے پی ساری لائنز کراس کر رہے ہیں، اگر انہوں نے مزید کوئی لائن کراس کی تو سخت کارروائی کی جائے گی ہم کسی صورت میں شنگھائی تعاون تنظیم ایس سی او کے اجلاس کو سبوتاژ نہیں کرنے دیں گے، محسن نقوی نے کہا کہ ان کو بہت سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن ان کے عزائم کچھ اور لگ رہے ہیں، شواہد ہیں کہ بنوں کے لوگوں کو کہا گیا ہے کہ رائفل لیکر جائیں، دھاوا بولنے کی کی قیمت ادا کرنا ہو گی، دھاوا بولنے پر تو کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے سوال پر وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ صدر اور وزیر اعظم رابطے میں ہیں، جو حکمت عملی وہ بنائیں گے اُس پر عمل درآمد کریں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کے پی میں یہ 10 بارہ سال حکمران ہیں ، دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اسی مال سے یہ حملہ آور ہو رہے ہیں ایک صوبے کا وزیر اعلی دوسرے صوبے پر مسلح حملہ کر رہا ہے مسلح جتھے آرہے ہیں جن میں مسلح افغانی ہیں جن کے ہاتھوں پر ہمارے سویلین کا خون ہے،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مشکلات میں ایک اور وجہ سے اضافہ ہوا ہے کیونکہ معاشی اعشاریے بہتر ہور ہے ہیں،ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے، ان کو پتہ ہے نہ اگر مہنگائی کم ہوگی تو ان کا کوئی والی وارث نہیں ہے پی ٹی آئی کا ایک بیان بتا دیں جب انہوں نے شہدا کو خراج تحسین پیش کیا ہوا،وزیر اعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں خطاب تاریخی تھا جس کی محمود عباس نے تعریف اور تحسین کی ،پہلے انہوں نے2014 میں چینی وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر اجتحاج کیا جو کہ ایک سال تاخیر سے آئے، سی پیک کو روکنے کیلئے دھرنا کیا اب یہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر بدامنی پیدا کر رہے ہیں،لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ کسی کو ایس سی او اور امن عامہ کو سبو تاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، ریڈ زون کے قریب کسی کو پھٹکنے نہیں دیں گے،علی امین گنڈار پور کے ساتھ آنے والے دنوں میں بہت برا سلوک دیکھ رہا ہوں، کے پی کے لوگ اپنے وزیراعلیٰ کے خلاف ہو جائیں گے، آج پوری دنیا پاکستان کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کر رہی ہے، دنیا بھر کے مختلف سربراہان اور مندوبین پاکستان آ رہے ہیں، پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے فلسطین، کشمیر اور مسلم امہ کے کاز ، اقوم متحدہ میں وزیراعظم کی تقریر کو سراہا، معیشت بہتر ہورہی ہے اور مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آرہی ہے،لیکن پی ٹی آئی کی پریشانی ہے کہ ملک ترقی نہ کر جائے، ان کے دھرنے کی وجہ سے چین کے صدر کے دورے میں تاخیر ہوئی، انہیں پریشانی ہے کہ ملک ترقی کر گیا تو ان کے بیانئے کا کیا بنے گا، ریڈ زون پر دھرنے کا مقصد کار سرکار کو مفلوج کرنا ہوتا ہے، ان کے دھرنے کا مقصد 9 مئی والا ہی ہے، ڈنڈا وگڑے تگڑوں کا پیر ہے، یہ لوگ اسی وجہ سے ٹھیک ہوتے ہیں، پہلے پنجاب کو لوٹا گیا اب خیبر پختونخوا کو لوٹا جا رہا ہے، خیبر پختونخوا کی حکومت سرکاری پیسے سے لیڈر کو خوش کرنے پر لگی ہے، سارا ملک ترقی کر رہا ہے صرف خیبر پختونخوا میں کچھ نہیں ہو رہا، ملک کی تباہی اور بربادی میں ان کا ہاتھ ہے، تحریک انتشار کچھ بھی کر لے ملک ترقی کرتا رہے گا، انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پی ٹی آئی کا زور ٹوٹ رہا ہے، مجھے امریکا میں کہیں احتجاج نظر نہیں آیا، پُرامن احتجاج کی اجازت ہے، اسلحہ اور غلیل کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں، علی امین گنڈاپور نے معاہدہ کرکے خلاف ورزی کی ہے،دریں اثناء لاہور میں امن و امان کے قیام کیلئے رینجرز کو طلب کرلیا گیا ، مینار پاکستان گرائونڈ میں پی ٹی آئی کی طرف سے احتجاج کرنے کے اعلان پر موٹرویز ، جی ٹی روڈ سمیت شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کوکنٹینرز لگا کر بند کردیا گیا، مختلف شاہراہوں پولیس تعینات ہے ،گاڑیوں کی قطاریں لگی ہیں ایمبولینسز میں پھنسنے سے مسافروں کے ساتھ ساتھ مریض بھی پریشان ہیں،لاہور سے دوسرے شہر جانے والی ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور پر بند ہے،بابو صابو ، ٹھوکر نیاز بیگ انٹر چینج اور لاہور سیالکوٹ موٹر وے سے ٹریفک کو داخل نہیں ہونے دیا جارہا،راستے بند کیے جانے پر اسلام آباد اور دیگر شہروں کو جانے والے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے لاہور ہائیکورٹ کے قریب سے پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ، وکلا اور دیگر مقامات سے احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا جبکہ مظاہرین کے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ہے، پولیس ڈھائی ہزار سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے چکی ہے ،پنجاب حکومت نے دو روز قبل پی ٹی آئی کے کے 1590 کے قریب کارکنان کی گرفتاری کے آرڈر جاری کیے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے 36سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا ہے ،تاہم پولیس نے تصدیق نہیں کی، فیروز پورروڈ،کینال روڈ،مال روڈ ، پیکو روڈ،گلبرگ جوہرٹاؤن،ٹاؤن شپ اور شہر کے اندر کی دیگر سڑکیں کھلی ہیں لیکن پولیس کی بھاری نفری سارا دن موجود رہی ۔ مینارپاکستان آنیوالے تمام راستے بند رکھے گئے، بڑی شاہراہوں پر کنٹینرز،گلیوں پر خار دار تار یں لگا دی گئیں ، قیدیوں کی وینز اور آنسو گیس کا سامان آزادی فلائی اوور پہنچا دیا گیا جبکہ پولیس کی مزید نفری بھی طلب کی گئی ہے ۔ رات گئے بعض خواتین اوردیگر مینار پاکستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے جس پر پولیس کی جانب سے شیلنگ کی گئی جس سے مظاہرین منتشر ہوگئے پولیس نے مینار پاکستان کے اطراف سے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقامات پر منتقل کردیا،لبرٹی چوک پر بھی پولیس کی بھاری نفری اور قیدیوں کی وینز ،کنٹینرز موجود ہیں ، ڈی آئی جی فیصل کامران نے کہا کہ دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنیوالوں کو جیل، مقدمات کا سامنا کرنا ہو گا، شہریوں کیلئےروکاوٹیں پیدا کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے والے سلاخوں کے پیچھے ہوں گے، ہوٹلوں پر پولیس کی چیکنگ جاری ہے، درجنوں مشکوک افراد کو حراست میں لیا گیا ،مسلم ٹاون موڑ پر چائے کے ہوٹل سے زیر حراست چار جمعیت علماء اسلام کے کارکن نکلے،جنہیں رہا کردیا گیا، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر کو لاہور ریلوے سٹیشن کے قریب سے گرفتار کر لیا گیا جبکہ مسرت جمشید چیمہ آزادی چوک فلائی اوورپہنچیں تو پولیس نے انہیں مزید دو خواتین سمیت حراست میں لے لیا، یہاں سے 5 مردوں کو بھی نعرے بازی کرنے پر گرفتار کیا گیا ۔