ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی کی وارداتیں ایک بار پھر ماضی کی طرح ایسا رخ اختیار کر رہی ہیںجس میں مختلف شعبوں اور پیشوں کے لوگوں کی ہراسانی کاپہلو مضمر ہے۔ عام غریب مزدوروں کو سافٹ ٹارگٹ سجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کی تازہ مثال بلوچستان کے علاقے دکی میں کوئلے کی کانوں پر مسلح افراد کا راکٹوں، دستی بموں اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے حملہ ہے جس میں کم از کم 20کان کن جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے۔ حملہ آوروں نے 10 کانوں کی مشینری بھی نذر آتش کردی۔ جاں بحق ہونے والے کارکنوں کا تعلق قلعہ سیف اللہ، پشین، ژوب، کچلاک، موسیٰ خیل اور افغانستان سے ہے۔ پولیس کے مطابق مسلح افراد نے مزدوروں کو ٹولیوں کی شکل میں یکجاکرکے فائرنگ کی۔ اس حملے کی ذمہ داری تا حال کسی نے قبول نہیں کی تاہم ماضی میں اس نوعیت کے حملوں کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) قبول کر تی رہی ہے۔ اس واقعہ کے خلاف احتجاجاً شہر کے تمام کاروباری مراکز بندرہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دہشت گردوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کا حکم دیا ہے۔ رواں برس بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مزدوروں پر حملوں کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں جن میں زیادہ تر پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو نشانہ بنایا گیا۔ دکی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 300کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے یہاں کو ئلے کے ذخائر ہیں جن میں بڑی تعداد میں مزدور کام کرتے ہیں۔ دکی اور اس کے نواحی علاقوں میں پہلے بھی کوئلے کی کانوں، کوئلہ لے جانے والے ٹرکوں کے علاوہ مزدوروں کے اغوا اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ دہشت گردوں نے بیگناہ مزدوروں کو نشانہ بنا کر ظلم کی انتہا کردی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ دہشت گردوں کا ایجنڈا پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ وہ کسی رو رعایت کے مستحق نہیں۔ انہیں سخت شکنجے میں لانا ہوگا۔
بڑھا دیتی ہے جو مہنگائی کچھ اوروہ سالانہ مصیبت آپڑی ہےبجٹ کی آمد آمد ہے خدایا! ’’قیامت کی گھڑی سر پر کھڑی...
ورلڈ کپ……اقبال خورشیدفٹ بال ورلڈ کپ کا طلسم کیا ہے؟ میں نے گارسیا مارکیز سے پوچھا۔نوبیل انعام یافتہ ادیب نے...
کسی بھی ملک کی معیشت کے بارے میں سب سے اہم رائےوہ نہیں ہوتی جو حکومتیں اپنے بارے میں خوددیتی ہیں بلکہ وہ ہوتی...
شمشال میں عید ہر سال اسی عقیدت، محبت، سادگی اور اشتراک عمل کے جذبے سے منائی جاتی ہوگی جس کے ساتھ اس برس منائی...
دنیا کی سب سے بڑی سچائیاں ہمیشہ بلند آواز میں نہیں بولتیں۔ بعض اوقات وہ خاموشی سے زمین پر رینگتی ہیں اور...
علامہ اقبال نے شکوہ لکھا بہت اعتراضات ہوئے پھر جواب شکوہ لکھا۔ مگر نوجوانی کی شاعری میں وجود زن اچھا اسلئے...
ایران اور امریکہ جنگ کے شعلے پھر سے بھڑک اٹھے ہیں، صدر ٹرمپ کی زبان ایک مرتبہ پھر لاوا اُگل رہی ہے اس سے پہلے...
اس دنیا میں ہر کام کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔ ایک بستر پہ پڑا ، کمزور ٹانگوں والا آدمی اگر کسی موٹیویشنل اسپیکر...