آئی ایم ایف شرائط پر وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک کے دستخط

12 اکتوبر ، 2024

اسلام آباد( مہتاب حیدر) 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے تحت 22 شرائط کی منظوری کے ساتھ ہی پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ تحریری معاہدے کیے ہیں جن پر وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک نے دستخط کیے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت پاکستان نے جون 2025 تک خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کی مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کا ۔منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔تمام SEZs کی مراعات کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔ حکومت جون 2025 تک ایک منصوبہ تیار کرے گی اور SEZs کی تمام موجودہ مراعات کو 2035 تک مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک تخمینے پر مبنی عمل درآمد کرے گی۔حکومت نے آئی ایم ایف کی اس شرط کو قبول کیا ہے کہ وہ دسمبر 2024 تک گیس ٹیرف میں تبدیلیوں کی منظوری دے گی اور 2025-26 کے بجٹ میں کھاد اور کیڑے مار ادویات پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد کرے گی۔اینٹی کرپشن فریم ورک کو مؤثر بنانے کے لیے، حکومت 2025 تک سول سروس ایکٹ میں ترمیم کرے گی تاکہ اعلیٰ سطح کے عوامی عہدیداروں کے اثاثوں کی ڈیجیٹل فائلنگ اور عوامی رسائی کو یقینی بنایا جا سکے (ذاتی معلومات کی حفاظت کے ساتھ)، اور ایف بی آر کے ذریعے اثاثوں کی جانچ کے لیے ایک مستحکم فریم ورک تیار کیا جائے گا۔ حکومت مالی سال 2025 کے لیے نیٹ صفر گردشی قرضے کے بہاؤ کو حاصل کرنے کے لیے ٹیرف میں بروقت اضافے، ہدفی سبسڈی، اور بجلی کے شعبے میں اخراجات کو کم کرنے والی اصلاحات کے امتزاج کے ذریعے کوشش کرے گی۔ آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "پاکستان کی قرض ادائیگی کی صلاحیت کو نمایاں خطرات لاحق ہیں اور یہ پالیسیوں کے مؤثر نفاذ اور بروقت بیرونی مالیاتی تعاون پر منحصر ہے۔"آئی ایم ایف کے عملے نے اپنے جائزے میں اس بات پر زور دیا کہ 2023-24 کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (SBA) کے تحت پالیسیوں کا نفاذ قابل تعریف تھا، لیکن آنے والے سالوں میں میکرو استحکام کو مزید مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے مستقل کوششیں ضروری ہیں۔ SBA نے قریبی مدت کے خطرات کو کم کرنے اور اعتماد کی بحالی کے اپنے محدود اہداف حاصل کیے، لیکن گہرے ساختی مسائل ابھی بھی باقی ہیں۔آئی ایم ایف کے مطابق، اقتصادی پالیسی سازی کو بنیادی طور پر تبدیل کرنا، معیشت میں ریاست کے کردار کو کم کرنا، کاروباری ماحول کو مضبوط بنانا تاکہ نجی سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے، انسانی وسائل اور ترقی میں سرمایہ کاری کرنا، اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں کی حفاظت کرنا، یہ سب ضروری ہیں تاکہ پاکستان کی معیشت کو بوم-بسٹ ( یکلخت ابھار اور ایکدم ماند پڑجانے کے چکر)سائیکل سے بچایا جا سکے۔پاکستانی حکام ان چیلنجوں کو تسلیم کرتے ہیں، اور وہ گزشتہ دہائی میں متعدد بار آئی ایم ایف پروگراموں کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، اور اب انہوں نے پاکستان کی معاشی بحالی اور مستقبل کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پرعزم نئی کوشش کا آغاز کیا ہے۔ اس مرحلے پر، مضبوط اور پائیدار ملکیت کے بغیر معیشتی پالیسیوں اور اصلاحات کے ایجنڈے پر فیصلہ کن عملدرآمد کا کوئی متبادل نہیں ہے۔مالی سال 2025 کے بجٹ میں مالیاتی کوششیں اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے پُرعزم اصلاحات کا نفاذ مالیاتی استحکام کو مضبوط کرنے کے لیے اہم ہیں۔ مالی سال 2025 کے بجٹ کی منظوری ایک اہم پہلا قدم ہے، اور اس کے اعلیٰ معیار کے محصولات کے اقدامات جیسے جنرل سیلز ٹیکس، ذاتی انکم ٹیکس، اور برآمد کنندگان اور ڈویلپرز کے کارپوریٹ انکم ٹیکس کو ہدف بنانا، منصفانہ، شفافیت اور محصولات کی وصولی کو بڑھانے کے لیے ابتدائی سنگ میل ہیں۔آئی ایم ایف نے تصدیق کی کہ وفاقی حکومت نے 1723 ارب روپے کے محصولات میں اضافہ کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جس میں 240 ارب روپے کے براہ راست ٹیکسز اور 357 ارب روپے ذاتی انکم ٹیکس اور کارپوریٹ ٹیکس کی شرحوں میں اضافے سے، 286 ارب روپے جی ایس ٹی سے، 250 ارب روپے انتظامی بہتری سے، 413 ارب روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی توسیع سے، اور 65 ارب روپے کسٹمز ٹیرف کی اصلاحات سے حاصل کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔