پنجاب اسمبلی، ڈپٹی کمشنروں کو22 سال بعد دفعہ 144 لگانے کا اختیار دوبارہ حاصل

12 اکتوبر ، 2024

لاہور(آصف محمود بٹ ) پنجاب اسمبلی کی طرف سے کوڈ آف کریمنل پروسیجر(سی آر پی سی) 1898(پنجاب ترمیمی ) ایکٹ 2024کی منظوری کے بعد اب ڈپٹی کمشنروں کو 22 سال بعد صوبے میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144نافذ کرنے کے باقائدہ قانونی اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔ ’’جنگ‘‘ کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق اب ڈپٹی کمشنر کو 30دن اور ہوم سیکرٹری کو 90روز تک صوبے میں دفعہ 144لگانے کے اختیار ات حاصل ہو گئے ہیں۔ مشرف دور حکومت کے دور ان 2002میں ضلعی حکومتوں کا نظام متعارف کروایا گیا تو سی آر پی سی 1898کے سب سیکشنز (1) ، (4)، اور (5) میں ترمیم کرکے دفعہ 144لگانے کا اختیار ضلعی ناظم کو دے دیا گیا تھا جبکہ سب سیکشن (1) میں ترمیم کی گئی کہ ضلعی ناظم دفعہ144ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جسے آجکل (ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، ڈی پی او) اور ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر جسے اب (ڈپٹی کمشنر ) کہا جاتا کی سفارش پر لگائے گا۔ مشرف دور ختم ہونے کے بعد ضلعی ناظم ختم ہوگئے تو ڈپٹی کمشنر کا عہدہ دوبارہ بحال ہو گیا لیکن سی آر پی سی میں ترمیم کرکے لفظ ضلعی ناظم کی جگہ ڈپٹی کمشنر کا نام نہیں لکھا گیا جس کی وجہ سے ڈپٹی کمشنر قانونی طور پر دفعہ 144لگانے کا اختیار نہیں رکھتے تھے ۔ نگراں وزیر اعلی محسن نقوی کے دور میں ڈپٹی کمشنروں کے ذریعے دفعہ 144نافذ کرنے کے لئے گورنر پنجاب نے دو مرتبہ آرڈنینس جاری کیے تھے۔