عمران کو کسی نئے سیل یا بیرک میں منتقل نہیں کیا گیا ، سپرنٹنڈنٹ جیل

12 اکتوبر ، 2024

اسلام آباد(محمد صالح ظافر /خصوصی تجزیہ نگار)عمران کو کسی نئے سیل یا بیرک میں منتقل نہیں کیا گیا وہ بدستور اپنی جگہ پر رہ رہے ہیں اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ غفورانجم کی جنگ/نیوز سے خصوصی گفتگو،غفور انجم نے کہا کہ انہیں حسب سابق تمام سہولتیں دستیاب ہیں، اڈیالہ میں آرام و آسائش کے بارےمیں انہوں نےکبھی کوئی شکایت نہیں کی ،شوکت خانم کے ڈاکٹروں نے جیل میں آکر ان کے دانتوں کا معائنہ کرکے ادویات دیں جن سے وہ روبصحت ہیں جیل میں آنے کے بعد انہوں نے اپنی بواسیر یا ایسی کسی دوسری بیماری کی شکایت نہیں کی،وہ کم و بیش تین گھنٹے کی سخت ورزش کرتے ہیں جس میں کوئی خلل نہیں آیا،انکی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں ،جیل کے عملے کو تاکید ہے کہ ہر قیدی کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کریں ،عمران خان کو قید تنہائی میں رکھنے اور صحت کے بارے میں افواہیں سراسر جھوٹ ہیں ،ملاقاتیں کھلیں گی تو یہ جھوٹ ثابت بھی ہو جائےگا۔اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ غفور انجم نے کہا کہ عمران خان کو کسی نئے سیل یا بیرک میں منتقل نہیں کیا گیا وہ شروع سے جس جگہ رکھے گئے ہیں بدستور وہیں رہ رہے ہیں ۔ انہیں جیل مینوئل کے مطابق تمام سہولتیں دستیاب ہیں اپنی آرام و آسائش کے معاملے میں حالیہ دنوں میں تو درکنار اڈیالہ جیل میں رہتے ہوئے انہوں نے کبھی کوئی شکایت نہیں کی جمعہ کی شب جنگ/دی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے کہا کہ وہ کسی قیدی کو بے آرام کرنے یا رکھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس جیل کے سپرنٹنڈنٹ نہ تو کسی کی سفارش پرلگے ہیں اور نہ ہی انہوں نے اس کے لئے کبھی کوئی درخواست کی ہے ۔ غفور انجم نے بتایا کہ عمران خان نے دانتوں کی تکلیف کے سوا کسی عارضے کی کوئی شکایت نہیں کی دانتوں کے معائنے کے لئے شوکت خانم اسپتال کے ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا تھا جن کی تجویز کردہ ادویہ فراہم کردی گئیں جس کے بعد وہ روبہ صحت ہیں ۔ خان نے جیل آنے کے بعد اپنی بواسیر کی کوئی شکایت نہیں کی صحت کے حوالے سے ان کی جسمانی نظام کے تمام اشاریئے درست اور اطمینان بخش حالت میں ہیں ۔ڈاکٹردن میں تین مرتبہ ان کا معائنہ کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ عمران کم و بیش تین گھنٹے کی سخت ورزش کرتے ہیں جس میں کوئی خلل نہیں آیا ۔ ان کی صحت اور دانت کے حوالے سے قیاس آرائیاں سراسر بے بنیاد ہیں ۔ کوئی جیلر کسی قیدی اور بالخصوص جب وہ ملک کا سابق وزیر اعظم رہ چکا ہو کسی تکلیف یا مشکل میں رکھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ غفور انجم نے انکشاف کیا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی موجودگی میں ارکان قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی میں جہاں وفاقی مشیر رانا ثنا اللہ خان کے علاوہ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی بھی بیٹھے تھے انہوں نے عمران خان کی دانت کے بارے میں ہر سوال کا باوضاحت جواب دیا تھا جس سے وہ تمام شخصیات مطمئن ہوگئیں تھیں۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کا موقف تھا کہ اڈیالہ جیل کا ماحول سہولتیں خطے میں کسی بھی دوسری بہترین جیل کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے ۔یہاں عام قیدیوں کو بھی ہر ممکن آرام و آسائش فراہم کی جاتی ہے ۔ عملے کو سختی سے تاکید کی جاتی ہے کہ وہ ہر قیدی کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کرےیہی وجہ ہے کہ اڈیالہ جیل میں رکھے گئے قیدیوں کی طرف سے بدسلوکی کی کوئی شکایت کبھی سامنے نہیں آئی اس سلسلے میں عمران خان نے بھی کوئی شکایت نہیں کی ۔ ایک استفسار کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ کسی قیدی کو اسکے لئے واجب سہولتوں سے بڑھ کر مراعات یا سہولت فراہم نہیں کی جاسکتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل میں قیدیوں سے ان کے ملاقاتیوں کی سہولت کا بھی پورے طور پر خیال رکھا جاتا ہے ۔ ایک دوسرے سوال پر غفور انجم نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے بارے میں منفی قیاس آرائیاں اور انہیں کسی قید تنہائی میں رکھنے کی باتیں محض خانہ ساز کہانیاں ہیں وہ مکمل طور پر صحت مند اور سکون سے ایام اسیری کاٹ رہے ہیں ۔جیل اور اس میں موجود تمام قیدی پورے طور پر محفوظ و مامون ہیں کسی قیدی یا قیدیوں کے بارے میں پھیلائی جانے والی بے بنیاد قیاس آرائیوں کی حقیقت اس وقت آشکار ہوجائے گی جب قیدیوں سے ملاقاتوں کی اجازت ہوجائے گی۔