بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی شادی معاہدہ ختم کرسکتی ہے، سپریم کورٹ

28 اکتوبر ، 2024

اسلام آباد(صباح نیوز)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قراردیا ہے کہ اگر خاوند پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرتا ہے تواس کی بنیاد پر پہلی بیوی اپنے شوہرکے ساتھ شادی کامعاہدہ ختم کرسکتی ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس سید منصورعلی شاہ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ کا18صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا ، ڈاکٹر فریال مقصود اوردیگر کی جانب سے خرم شہزاد درانی اوردیگر کے خلاف دائر درخواست کی سماعت مکمل ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق عدالت نے ماتحت عدالتوں کی جانب سے شوہر کے مظالم اور خلع کی بنیاد پر میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کے حوالہ سے دیئے گئے فیصلے کالعدم قراردیتے ہوئے شوہر کی جانب سے پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرنے پر پہلی بیوی کے شادی ختم کرنے کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان شادی ختم ہوچکی ہے۔ ٹرائل کورٹ کی جانب سے درخواست گزاراورمدعا علیہ کے درمیان ازدواجی تعلقات کی بحالی کے حوالہ سے حکم برقرارنہیں رکھا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے حق مہر، جہیز کے سامان، خرچ کی ادائیگی اور بچے سے ملاقات کے حوالہ سے دیئے گئے شیڈول کے حوالہ سے فیصلہ برقراررہے گا۔عدالت نے قراردیا ہے کہ قانونی طورپر شادی کاکنٹریکٹ ختم کرنے کے حوالہ سے بہت سے طریقے دیئے گئے ہیں۔بنیادی طریقہ یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی کوطلاق دے اوراگر بیوی کو اس کااختیاردیا گیا ہے تو وہ بھی اس حق کااستعمال کرسکتی ہے۔ ہائی کورٹ آئین کے آرٹیکل 199کے تحت ان سوالوں کے حوالہ سے فیصلہ نہیں کرسکتی جن میں حقائق کے تعین کے لئے شہادت ریکارڈ کرنا درکارہو۔جسٹس سید منصورعلی شاہ کی سربراہی میں جسٹس جمال خان مندوخیل او رجسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل 3رکنی بینچ نے ڈاکٹر فریال مقصود اوردیگر کی جانب سے خرم شہزاد درانی اوردیگر کے خلاف دائر درخواست پر 3مئی2024کوسماعت کی تھی۔ درخواست گزار کی جانب سے وسیم الدین خٹک اور مدعا علیہ نمبر ایک کی جانب سے بیرسٹر عمر اسلم خان بطور وکیل پیش ہوئے تھے۔کیس کاتحریری فیصلہ جاری کردیا گیا۔18صفحات پر مشتمل کیس کاتحریری فیصلہ جسٹس اطہر من اللہ نے تحریرکیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار ڈاکٹر فریال مقصود اور مدعا علیہ خرم شہزاد درانی نے پشاور ہائی کورٹ کے 4ماچ2019کے فیصلے کے خلاف درخواستیں دائر کی ہیں۔دونوں کی شادی 10ستمبر2007کو ہوئی اور بعدمیں 18دسمبر2008کوان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی جس کانام اسد اللہ درانی رکھا گیا۔ مادی جھگڑوں کی وجہ سے دونوں کی زندگی اجیرن بن گئی تھی جس کی وجہ سے ان دونوںکے درمیان 2012میں علیحدگی ہوگی۔ درخواست گزار خاتون نے 28جولائی2012کو نکاح نامہ میں درج حق مہرکی ادائیگی اور جہیزکے سامان کی واپسی کامطالبہ کیا ۔ دعویٰ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شوہر کی جانب سے زبانی طلاق دینے کے بعد دونوں میں طلاق ہوچکی ہے۔ جبکہ مدعا علیہ نے دعویٰ کے خلاف اپنا جواب جمع کروایا اور طلاق دینے سے انکار کیا تاہم نکاح نامہ میں درج حق مہر سے انکار نہیں کیا۔ مدعا علیہ نےمؤقف اختیار کیا کہ 50تولہ سونا اور 5لاکھ روپے نکاح کے وقت ہی درخواست گزار خاتون کو اداکردئیے گئے تھے تاہم گھر میں حصہ دینے کے معاملہ سے انکار نہیں کیا گیا۔درخواست گزار نے استدعا کی اس کے خاتون کے ساتھ ازوداجی تعلقات بحال کرنے کاحکم دیا جائے کیونکہ اس نے خاتون کوطلاق نہیں دی اوردونوں کی شادی اب بھی برقرارہے۔ ٹرائل کورٹ نے 9ایشوز فریم کئے۔ یہ ایشو بھی فریم کیا گیا کہ آیا دونوں کے درمیان طلاق ہوچکی ہے اور مدعا علیہ کے حق میں ازداجی تعلقات کی بحال کے حوالہ سے حکم جاری کیا جائے۔ ٹرائل کورٹ نے 29مئی 2014کو جزوی طور پر دعویٰ ڈگری کردیا۔درخواست گزار خاتون کے حق میں 5لاکھ روپے ادائیگی اور گھر میں حصہ دینے یا متبادل طور پر نکاح نامہ میں تعین کردہ قیمت کے حوالہ سے تھی۔ تاہم عدالت کی جانب سے 50تولے حق مہر کی ادائیگی کادعویٰ خارج کردیا گیا۔ عدالت نے جہیزکے سامان کی ریکوری کادعویٰ بھی جزوی طور پر ڈگری کردیا جس میں 51تولے سونا بھی شامل تھا۔ جبکہ عدالت نے بچے کے خرچ کی ادائیگی کے حوالہ سے بھی حکم جاری کیا۔ عدالت نے ازدواجی تعلقات کی بحالی کابھی حکم دیا تاہم قراردیا کہ یہ حق مہر کی فوری ادائیگی سے مشروط ہوگا۔ دونوں فریقین نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کوایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور 5کی عدالت میں چیلنج کیا جن کافیصلہ 29فروری2016کو کیا گیا۔اپیلوں کی سماعت کے دوران مدعا علیہ نے دوسری شادی کرلی اس بنیاد پر شادی ختم کرنے کے لئے الگ درخواست دائر کی گئی۔ درخواست گزار خاتون کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس، 1961کی شقوں کی خلاف وزری کرتے ہوئے دوسری شادی کرنا ڈیزولویشن آف مسلمز میریجزایکٹ 1939کاسیکشن 2شادی کی تنسیخ کی وجہ فراہم کرتا ہے۔ ایپلٹ کورٹ کی جانب سے اضافی بنیاد پر غور کیا گیا جوکہ فیصلہ سے واضح ہے۔ تاہم ایپلٹ کورٹ نے خلع کی بنیاد پر شادی ختم کرنے کاحکم دیا۔ ایپلٹ کوررٹ نے خلع کی بنیاد پر حق مہر کے 50تولے جہیز میں آنے والے 50تولے سونے کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے کاحکم دیا۔ مدعا علیہ نے اپیلٹ کورٹ کافیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج نہیں کیا تاہم درخواست گزار نے آئین کے آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹ کاغیر معمولی دائرہ اختیاراستعمال کرتے ہوئے فیصلہ چیلنج کیا۔ہائی کورٹ نے 4مارچ2019کے فیصلہ کے ذریعہ درخواست منظورکرلی۔جبکہ ہائی کورٹ نے خلع کی بنیاد پر شادی ختم کرنے کاایپلٹ کورٹ کاحکم کالعدم قراردے دیا۔تاہم ہائی کورٹ نے میاں بیوی کے درمیان ظلم وستم کی بنیاد پر شادی ختم کرنے کاحکم دیا اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے حق مہر اور جہیز کے سامان کی ریکوری کے حوالہ سے جاری حکم بحال کردیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ہم نے فریقین کے وکلاءکو تفصیل سے سنا اور ان کی جانب سے تحریری گزارشات بھی جمع کروائی گئی ہیں۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار خاتون یہ ثابت نہیں کرسکی تھی کہ مدعا علیہ نمبر 1نے اسے زبانی طو رپر طلاق دے دی ہے اس لئے ٹرائل کورٹ نے ازدواجی تعلقات کی بحالی کاحکم دیا تاہم ایپلٹ کورٹ نے ڈگری میں ترمیم کرتے ہوئے قراردیا کہ خلع کی بنیاد پرمیاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہوچکی ہے جبکہ ایپلٹ کورٹ نے اس نقطہ کے حوالہ کوئی فیصلہ نہیں دیا کہ آرڈیننس 1961کی شقوں کے تحت بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی جاسکتی ہے کہ نہیں۔ ہائی کورٹ نے قراردیا ہے کہ ظلم وستم کی بنیاد پر میاں بیوی کے درمیان علیحدگی جائز ہے۔ مدعا علیہ نے اپیلٹ کورٹ کی جانب سے خلع کی بنیاد پر علیحدگی کے حکم کوتسلیم کیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کیا ایپلٹ کورٹ خلع کی بنیاد پر ڈگری جاری کرسکتی تھی اور آیا کہ ہائی کورٹ نے درست طور پر ظلم وستم کی بنیاد پرشادی ختم کرکے ڈگری میں ترمیم کی۔