لاہور،عالمی ادارہ صحت کے معیار سے 40گنا زائدسموگ،ائیرکوالٹی انڈیکس پہلی بارہزارسے زیادہ

03 نومبر ، 2024

لاہور،نوشہرہ ورکاں(خبرنگار،خصوصی رپورٹر، نامہ نگار)لاہورمیں عالمی ادارہ صحت کے معیار سے 40گنا زائدسموگ،ائیرکوالٹی انڈیکس پہلی بار ایک ہزار سے زیادہ ہوگیا۔ موسمیاتی ماہرین کے مطابق بھارتی ریاستوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کی وجہ سے دھویں کے بادل تیز ہواؤں کے ذریعے پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ اس شدید سموگ کے باعث لاہور کے شہریوں کو سانس لینے میں مشکلات اور دیگر صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور ماسک کا استعمال لازمی کریں، خاص طور پر وہ افراد جو سانس، سینے، یا دل کے امراض میں مبتلا ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ 48گھنٹوں تک یہ سموگ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ناسا نے بھی بھارتی علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانے اور اس سے پیدا ہونے والے دھویں کا فضائی میپ جاری کیا ہے جس سے پاکستان میں بھی فضائی آلودگی کی صورتحال پر نمایاں اثر پڑ رہا ہے۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا مزید کہناتھا کہ پنجاب حکومت نے سموگ سے بچاؤ کے لیے کلین اپ آپریشن تیز کر دیا ہے۔اس حوالے سے لاہور کے مختلف علاقوں، خصوصاً شملہ پہاڑی اور ملحقہ علاقوں میں گرین لاک ڈائون جاری ہے، جہاں مسلسل پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ فضائی آلودگی میں کمی لائی جا سکے۔ حکام نے دھواں پھیلانے والی 50سے زائد ریڑھیاں بھی قبضے میں لے لی ہیں۔ ناجائز تجاوزات، دھواں پھیلانے والے ذرائع، اور کھلی جگہوں پر رکھے کچرے اور ملبے کی صفائی اور ڈھانپنے کا کام بھی مسلسل جاری ہے تاکہ شہر میں سموگ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ادھرنوشہرہ ورکاںمیں مونجی کی چھڑائی اور دھان کی فصل کی باقیات کو جلانے کی وجہ سےسموگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا،جس کی ایک بڑی وجہ شیلرز ہیں ۔سرشام ہی شیلرو ں سے اٹھنے والی گردوغبارپورےشہرکواپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور اس ماحول میں سانس لینا بھی محال ہوجاتا ہے۔ عوام الناس نےشہر میں پانی کے چھڑکاؤ اور گردوغبار کےتدارک کیلئے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔