وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عمل سے ذمہ داری کا احساس نہیں جھلکتا،تجزیہ کار

03 نومبر ، 2024

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرا م’’ رپورٹ کارڈ‘‘ میں میزبان علینہ فاروق نے اپنے پینل کے سامنے سوال رکھا کہ کیا وزیراعلیٰ کے پی کی طرف سے جو سرکاری ملازمین پارٹی کے احتجاج میں شرکت پر پھول برسائے گئے ، مراعات کا اعلان کیا گیا شاباشی دی گئی یہ سب درست اقدام ہیں؟ اس سوال کے جواب میں بینظیر شاہ ، ارشاد بھٹی ، فخر درانی اور مظہر عباس نے کہا کہ اس طرح کے عمل سے صوبے اور وفاق کا آمنے سامنے ہونے کا تاثر جاتاہے۔ سرکاری اداروں کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کرنا انہیں سیاست زدہ کرنا اور ان اہلکاروں کو اس طرح کی شاباشی دینا انہیں چیزوں کی تبدیلی کے لیے عمران خان سیاست میں آئے تھے یہ شرمناک ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے کسی عمل سے ذمہ داری کا احساس نہیں جھلکتا۔ سیاسی اہلکاروں کی تنخواہیں صوبے کے ٹیکس سے جاتی ہیں انہیں سیاسی جلسوں کے لئے لے جانا قطعاً مناسب نہیں ہے۔تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا یہ معاملات مجموعی طور پر سیاست زدہ بیوروکریسی کی غمازی کرتے ہیں اور سیاسی کارکن اداروں میں بھرتی کر لیے جاتے ہیں۔تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ لاہور ،پنڈی اور ڈی چوک جلسوں میں سرکاری وسائل استعمال کیے گئے ۔وزیراعلیٰ سے جب پوچھا گیا کہ جو ملازمین پکڑے گئے تھے یہ کون تھے فرمایا گیا کہ یہ وزیراعلیٰ کی سیکیورٹی تھی جبکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کا سب سے بڑا اعتراض یہی ہوتا تھا دوسری سیاسی پارٹیوں پر کہ یہ اپنے ذاتی جلسے جلوسوں میں سرکاری وسائل کا استعمال کرتے ہیں۔سرکاری اداروں کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کرنا انہیں سیاست زدہ کرنا اور ان اہلکاروں کو اس طرح کی شاباشی دینا انہیں چیزوں کی تبدیلی کے لیے عمران خان سیاست میں آئے تھے۔ تجزیہ کار فخر درانی نے کہاکہ جلسوں میں سرکاری وسائل کا استعمال ہوتا رہا ہے لیکن احتجاج کے دوران وفاق پر چڑھ دوڑنا یہ نئی بات ہے جو بالکل اچھی نہیں ہے۔انہیں پختونخوا کے اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ اپنی پارٹی کے لیے استعمال کرنے کی اور سرکاری وسائل پختونخوا میں پہلے بھی استعمال ہوتے رہے ہیں۔تجزیہ کار بینظیر شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے کسی عمل سے ذمہ داری کا احساس نہیں جھلکتا۔ کچھ دن پہلے پشاور میں لگنے والی آگ کو بجھانے کے اہلکار کم پڑ گئے تھے ایسی صورتحال میں وزیراعلیٰ ریسکیو 1122 کے چالیس اہلکاروں کو سیاسی جلسے میں لے گئے۔