یہ بات ایک المیے سے کم نہیں کہ منصوبہ بندی کے فقدان نے پاکستان کو معاشی طور پر ان گنت مسائل سے دوچار کررکھا ہے۔ان میںسرفہرست 87ہزارارب روپے سے زیادہ حجم میں معیشت پر غیرملکی قرضوں کا بوجھ ہے۔ تخمینوں کے مطابق 2025میں ان کی مالیت 99ہزار ارب روپے سے متجاوز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔معیشت کواس کیفیت تک پہنچانے میں77برس سے جاری تجارتی خسارے اور ٹیکسوں کے ناقص نظام نےبنیادی کردار ادا کیا۔وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں اپریل2022سے معاشی بحالی کی کوششیں جاری ہیںجنھیں 8فروری2024کے انتخابات کے بعد جلا ملی۔تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 4ماہ میں تجارتی خسارہ 5.19فیصد کمی کے ساتھ 6ارب97کروڑ ڈالر کی سطح پر آگیاجبکہ گزشتہ برس اسی عرصے میں یہ 7ارب39کروڑ ڈالر تھا۔ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق اکتوبر 2024ان 30ماہ میں سب سے بہتر رہا،جس میںتجارتی خسارہ 31.09فیصد کمی کے ساتھ ایک ارب 49کروڑ80لاکھ ڈالر رہا،جبکہ گزشتہ برس کے ان ہی دنوں میں خسارے کی مالیت 2ارب17کروڑ ڈالر سے زیادہ تھی۔معاشی اشاریوں کا گزشتہ چار مہینوں پر مشتمل گراف یہ ظاہر کرتا ہے کہ جولائی 2024سے اب تک برآمدات میں مسلسل بہتری آرہی ہے ۔ماضی میں رونماہونے والے تجارتی اتار چڑھائو کی روشنی میں متذکرہ کیفیت میں استحکام دکھائی دینا ضروری ہے۔77برس کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ برآمدات کے مقابلے میں ایک دو مواقع کے سوا ہمیشہ درآمدات کا پلہ بھاری رہا،جس سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدرمیں مسلسل کمی واقع ہوئی،اور یہ کیفیت حقیقت میں مہنگائی کی وجہ بنی۔معاشی بحالی پروگرام کامیابی سے جاری رکھنے میں تجارتی توازن کا برقرار رکھے جانا ہی حکومت کی اصل کامیابی تصور ہوگا۔
بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کو پیش آئے کچھ دکھوں کچھ غموں کے زخم اتنے شدید اور گہرےہوتے ہیں کہ انکے اظہار کیلئے...
جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطّوں میں سے ایک ہے جہاں جغرافیائی تناؤ، سیاسی عدم استحکام، معاشی تفاوت اور تاریخی...
آئی ایم ایف پروگرام ختم ، بجلی سستی ملے گی ، وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی رانا تنویر حسین نے فرمایا ہے کہ آئندہ...
چیزیں آگے پیچھے ہوتی رہتی ہیں، اور نئے مشاہدات و تجربات کو جانچنے کے بعد ارتقاء کو ابتدا ملتی اور جلا بخشی...
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تعیناتی نہ صرف ایک انتظامی قدم ہے بلکہ پاکستان کےمحفوظ...
23نومبر 2025ءکو منعقد ہونیوالے 6قومی اور 7صوبائی اسمبلی کے حلقوں کے انتخابات نہ صرف رائے عامہ کی موجودہ پرسکون...
8؍فروری 2024ء کے انتخا بات میں جہاں نواز شریف ’’نوازے‘‘ نہ جانے کے بعد گوشہ نشین ہو گئے وہاں عمران خان...
خیر ہم تو اس وقت آئی پی ایچ کی بات کریں گے جن کی موجوہ سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل ہیںجو اپنے کام میں بڑی...