زیادہ ووٹ کے باوجود شکست؟ امریکا کے الیکٹورل کالج کا جائزہ

04 نومبر ، 2024

واشنگٹن (اے ایف پی) کیا امریکا میں زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے باوجود صدارتی انتخابات میں شکست ہوسکتی ہے؟ امریکا کا الیکٹرول کالج سسٹم کس طرح کام کرتا ہے؟ اس کا جائزہ لیتے ہیں ، بیلٹ پیپرز پر صدر یا نائب کے نام ہوتے ہیں، درحقیقت ووٹرز گروپ یا الیکٹرز کو ووٹ دیتے ہیں، عام ووٹنگ کے بعد الیکٹورل کالج کے 538ارکان جیتنے والے کا تعین کرتے ہیں ، اکثر ریاستوں کی ریپبلکن یا ڈیموکریٹ جماعت کے ساتھ وابستگی واضح ہوتی ہے لہٰذا امیدواروں کی کوشش ہوتی ہے کہ ’سوئنگ‘ ریاستوں، یعنی وہ ریاستیں جہاں ووٹرز کسی بھی جماعت کے حق میں ووٹ ڈال سکتے ہیں، ان پر توجہ مرکوز کی جائے، الیکٹرز یعنی صدر کو منتخب کرنے والے سیاستدان مقامی سطح پر پارٹی عہدیدار یا سربراہ ہوتے ہیں، سیاسی جماعت کے وفادار الیکٹرز عوامی ووٹوں سے جیتنے والے امیدواروں کی حمایت کے پابند ہوتے ہیں۔ امریکی ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ جب سال 2016 میں اپنی سیاسی حریف ہیلری کلنٹن کو شکست دے کر صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے اس کو ایک ’خوبصورت‘ فتح قرار دیا تھا۔ 2016 کے انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کو اپنے حریف کے مقابلے میں ملک بھر سے 30 لاکھ سے زائد ووٹ پڑے تھے لیکن پھر بھی الیکٹورل کالج کے باعث فاتح ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیا گیا تھا۔ یہ غیرامریکیوں کے لئے کافی حیرت انگیز تھا کہ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے شخص کو صدر منتخب کیا جائے۔