بجٹ دوست چینی سولر پینلز عوام کیلئے تحفہ ، پاکستان گرڈ پر دبا ؤکم ہو گیا

04 نومبر ، 2024

لاہور (آئی این پی )رواں سال کی پہلی ششماہی میں 10,450 میگاواٹ کے سستے چینی سولر ماڈیولز نے پاکستان کے قومی گرڈ سسٹم پر دباو کم کر دیا، اگست میں پاکستان کو انورٹر کی برآمدات کی مجموعی مالیت 326 ملین یوآن تک پہنچ گئی ۔گوادر پرو کے مطابق پاکستان میں سستے چینی سولر پینلز کی آمد نے بھی بجلی کی لوڈ شڈنگ سے عوام کو سکون کا سانس دیا کیونکہ پاکستان میں لاکھوں افراد چینی شمسی توانائی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے عہدیدار نے گوادر پرو کو بتایا کہ 2024 کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان چائنہ انورٹرز سے مجموعی طور پر 1.714 ارب آر ایم بی مالیت کا فائدہ ہوا۔ صرف اگست میں پاکستان کو انورٹر کی برآمدات کی مجموعی مالیت 326 ملین یوآن تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کی نسبت 429.04 فیصد زیادہ ہے ۔ پاکستان کی مارکیٹ میں چینی سولر پینلز کی وجہ سے سامنے آنے والے مثبت نتائج نے قومی گرڈ سسٹم کو بہتر ی کا موقع دیا ہے کیونکہ پہلے ملک بھر میں گرڈ انفراسٹرکچر کی تزئین و آرائش کی اشد ضرورت تھی، انہیں بار بار دیکھ بھال کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ گوادر پرو کے مطابق پریشر میں کمی کے بعد گرڈ پر ستمبر کی پیداوار گشتہ سال کی نسبت 6 فیصد کم ہو کر 12.1 ارب یونٹ رہ گئی۔ اگست میں یہ گزشتہ سال کی نسبت 17 فیصد کم تھا۔ ستمبر کی پیداوار ستمبر2018 کے بعد سے مہینے کے لئے سب سے کم ہے۔واپڈا حکام نے گوادر پرو کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں اب تقریبا 30 فیصد بجلی شمسی توانائی سے پیدا کی جاتی ہے۔ متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ (اے ای ڈی بی) نے 2030 تک ملک کی 30 فیصد بجلی قابل تجدید ذرائع سے پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔