اسموگ کی ابتر صورتحال، وزارت خارجہ کے ذریعے بھارت سے مذاکرات ضروری، پنجاب حکومت

04 نومبر ، 2024

لاہور(نمائندہ جنگ / جنگ نیوز )پنجاب حکومت نے کہا ہے کہ لاہور میں اسموگ کی ابتر صورتحال کے باعث انسانی جانوں کو بچانے کیلئے وزارت خارجہ کے ذریعے بھارت سے مذاکرات ضروری ہیں ۔ لاہور شہر کو ائیر کوالٹی انڈیکس 1194تک پہنچ گیا ہے اور پرائمری اسکولز ایک ہفتے کیلئے بند کردیئے گئے ، بھارت میں جلائی گئی فصلوں ، کچرے کے دھواں سے ضلع لاہور سب سے زیادہ متاثر ہے ، بجلی کانظام بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور اسموگ کے اثرات وسطی پنجاب تک پہنچ گئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور میں سموگ بے قابو،ایئر کوالٹی انڈیکس1194 تک پہنچ گیا ،پنجاب حکومت نے لاہور میں پرائمری سکولز ایک ہفتہ کیلئے بند کردیے ،پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اسموگ بھارت سے آئی اور ایک دم پھیل گئی ، انسانی زندگیاں بچانے کیلئے بھارت سے بات کرنا پڑے گی ، بھارت سے آنے والی ہوائوں کی وجہ سے لاہور گزشتہ روز بھی فضائی آلودگی انڈیکس میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر رہا، عالمی ائیرکوالٹی انڈیکس میں 1194 نمبر کے ساتھ لاہور کا پہلا نمبر جبکہ بھارت کے دو شہر دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔450 سکور سے دہلی دوسرے اور 201 سکور سے کلکتہ تیسرے نمبر پر ہے ۔ بھارت سے چلنے والی ہوائوں کی رفتار اڑھائی سے سات کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، امریکی خلائی ادارے ناسا کا ہوائوں کا رخ دکھانے والا نقشہ جاری کیا ہے ۔بھارت میں جلائی گئی فصلوں اور کچرے کا دھواں اور بو لاہور پہنچ گئی ، سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع لاہور ہے ۔بھارتی شہروں جالندھر، لدھیانہ، چندی گڑھ، بھٹنڈہ، کرنال، گورداسپور، امرتسر اور اٹاری سے دھوئیں کے گہرے سیاہ بادل پاکستانی علاقوں میں آ رہے ہیں جس کی وجہ سے لاہور کی سموگ کی صورت حال مزید پیچیدہ ہوگئی،سموگ کے اثرات وسطی پنجاب تک پہنچ گئے ، موسمیاتی ماہرین کے مطابق بھارتی آلودہ ہوائوں سے لاہور میں معمول کا قدرتی فضائی بہا ئورک گیا، بھارت میں سموگ کے عوامل پر قابو پانے سے ہی خطے میں سموگ پر قابو پایا جا سکتا ہے، انوائرمنٹ پروٹیکشن اتھارٹی کی جانب سے لاہور میں اسموگ کے باعث ایک ہفتے کیلئے پرائمری تک اسکول بندکرنےکانوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔جاری نوٹیفکیشن کے تحت چھٹی کا اطلاق پبلک اور پرائیوٹ اسکولوں پر ہوگا اور پرائمری سیکشن تک اسکول 4 سے 9 نومبر تک بند رہیں گے، پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا پنجاب حکومت نے اسموگ پر قابو پانے کے لئے ایک ہفتے کے لیے پرائمری کلاس تک کے بچوں کے لیے اسکولوں کی چھٹی کا اعلان کردیا ، انہوں نے کہا کہ پرائمری کلاسز سے اوپر بچوں کی صحت پر خصوصی نظر رکھی جائے، سرکاری اور نجی اسکولوں میں ماسک کی پابندی لازمی ہونی چاہیے، اسموگ بھارت سے آئی اور ایک دم پھیل گئی، بھارت سے بات کیے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، بھارتی ہوا کو نہ روک سکتےہیں نہ اس کا رخ موڑ سکتے ہیں،بھارت کےساتھ ڈائیلاگ سے ہی اسموگ کے معاملات بہتر کرسکتے ہیں، بھارت کے ساتھ بات چیت کے لیے4 نومبرکو وزارت خارجہ کو خط لکھیں گے،انہوں نے کہا کہ اسموگ کے تدراک کے لیے شارٹ اور میڈیم ٹرم اقدامات کیے گئے ہیں، مقامی سطح پر انفورس اور سرویلینس ہورہی ہے، اسموگ مقامی فیکٹریز سے مل کر اور زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے ۔مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ شہری اس وقت میتھین کوسانس کےذریعےجسم میں اتار رہے ہیں، اسموگ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں پر مقدمے ہوں گے اور انہیں گرفتار بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بزرگ اور بچوں کو ماسک پہنائیں، غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ جائیں۔پچاس فیصد افراد کو کہنے لگے ہیں کہ ورک فرام ہوم کریں، ایک کلومیٹر گرین ونگ کے اندر چنگ چی کو بین کیا گیا ہے، مصنوعی بارش کو پہلے یو اے ای سے لی تھی لیکن اب مختلف محکموں نے اپنی مصنوعی بارش کی ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے، جیسے ہی مصنوعی بارش کےلیے مناسب موقع ملا تو مصنوعی بارش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اسموگ سے متعلق تازہ ترین صورتحال پنجاب حکومت کی گرین ایپ پر جاری کی جارہی ہیں، ماحولیات کے تحفظ کے ادارے میں قائم ʼʼوار رومʼʼچوبیس گھنٹے جنگی بنیادوں پر کام کر رہا ہے، مانیٹرنگ اور کلین اپ آپریشن بھی مسلسل جاری ہے۔ سینئر وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ عوام احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں، بزرگ، بیمار اور بچے خاص طور پر احتیاط کریں، ماسک لازمی پہنیں، غیر ضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں۔انہوںنے کہا کہ وزیر اعلی مریم نواز شریف صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں، اسموگ سے بچا ئوکے حکومتی پلان پر سختی سے عمل درآمد جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ کسان فصلوںکی باقیات نہ جلائیں، خلاف ورزی پر گرفتاری اور جرمانوں کا سلسلہ جاری رہے گا، تعمیراتی کام والے مقامات پر ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کی جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں،دریں اثناء سموگ اور فوگ سے نمی کی آمیزش کے باعث بجلی کی ٹرپنگ گرڈ اسٹیشنز پر لگے برقی آلات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا۔لیسکو حکام کے مطابق سموگ اور فوگ سے بجلی کے ترسیلی نظام کے بچا ئوکیلئے لیسکو کے اقدامات جاری ہیں، بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائنوں کی صفائی کا کام کیا جا رہا ہے جو 31 دسمبر تک جاری رہے گا۔گرڈ اسٹیشنز کے پورسلین سے بنے تمام مواد کو جدید مشینری سے دھویا جا رہا ہے، خراب ڈسک انسولیٹرز سمیت دیگر پارٹس کو تبدیل کیا جائے گا۔