انسداد دہشتگردی بل سے اختیارات کے غلط استعمال کا خدشہ ہے، ایچ آر سی پی

04 نومبر ، 2024

لاہور(نمائندہ جنگ)پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے حال ہی میں متعارف کئے گئے انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2024 پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت ریاست کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ محض ’قابلِ اعتبار معلومات‘ یا ’معقول شک‘ کی بنیاد پر ،بغیر عدالتی نگرانی کے،لوگوں کو قومی سلامتی یا امن عامہ کیلئے خطرہ سمجھتے ہوئے تین ماہ تک ’تحقیقات‘ کیلئے حراست میں رکھ سکتی ہے۔ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن اسد اقبال بٹ نے کہا کہ انسداد دہشتگردی بل سے اختیارات کے غلط استعمال کا خدشہ ہے، حالیہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور قیمتی جانوں کے بڑے پیمانے پر ضیاع کے پیش نظر ملک کی بگڑتی ہوئی سلامتی اور امن و امان کی صورتحال سے نمٹنے کی فوری ضرورت کو تسلیم کرتا ہے۔ تاہم، امتناعی حراست مسئلے کا حل نہیں ہے، کیونکہ ایسے اختیارات کے غلط استعمال کا خدشہ رہتا ہے۔بدقسمتی سے ریاست کا ایسے قوانین کے منصفانہ، شفاف اور مناسب استعمال کا ریکارڈ مایوس کن رہا ہے۔ یہ بات ماحولیاتی انصاف کے کارکن بابا جان اور سابق قانون ساز علی وزیر کی طویل حراست سے ظاہر ہوتی ہے، جن پر دہشت گردی کو ہوا دینے کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے، اور حالیہ دنوں میں حقوق کی کارکن ماہرنگ بلوچ کا فورتھ شیڈول میں شامل ہونا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ موجودہ سیاسی حالات میں یہ خدشہ بھی ہے کہ امتناعی حراست کو سیاسی حریفوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔خاص تشویش کی بات یہ ہے کہ بل مسلح افواج کو محض شک کی بنیاد پر لوگوں کو بغیر عدالتی نگرانی کے حراست میں رکھنے کا اختیار بھی دیتا ہے۔ یہ نہ صرف جبری گمشدگیوں اور حراستی مراکز کے استعمال کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے۔