235سال میں امریکی صدر کی تنخواہ میں صرف 5بار اضافہ کیا گیا

07 نومبر ، 2024

کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی صدر کادنیا کی انتہائی بااثر اور طاقتور ترین شخصیات میں شمار ہوتا ہے ۔ 235سال میں امریکی صدر کی تنخواہ میں صرف5بار اضافہ کیا گیا،پہلے امریکی صد ر جارج واشنگٹن1789میں سالانہ69لاکھ46 ہزار روپے تنخواہ لیتے تھے ۔2025میں امریکا کے47ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سالانہ 11کروڑ 11لاکھ روپے تنخواہ لیں گے۔تنخواہ کے علاوہ صدر کو ایک کروڑ39لاکھ روپے سالانہ الاؤنس ، 2کروڑ78لاکھ روپے سفری الاؤنس ، سابق صدور کی شریک حیات سیکورٹی اور سرکاری سفر کیلئے سالانہ 13کروڑ90لاکھ روپے تک کے اہل ہیں ۔ امریکی اخبار یوایس ٹو ڈے اور ٹی وی سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر کی تنخواہ میںگزشتہ 23سال سے ایک بار بھی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ 20ویں صدی میں صرف تین بار امریکی صدر کی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا۔سالانہ تنخواہ آخری بار 2001 میں امریکی کانگریس نے جارج ڈبلیو بش کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے بڑھائی تھی۔2001سے پہلے32سال تک امریکی صدر کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،سن 1789میں تنخواہ 25ہزار ڈالر سالانہ تھی، 84سال بعد1873میں 50ہزار ڈالر کردی گئی ۔ پھر36سال بعد اضافہ کرکے1909میں75ہزار ڈالر کی گئی۔ 40سال بعد1949میں تنخواہ ایک لاکھ ڈالر کردی گئی ،اس کے بیس سال بعد1969میں دو لاکھ ڈالر کی گئی اور تیس بعد2001میں امریکی صدر کی سالانہ تنخواہ 11کروڑ 11لاکھ روپے(چار لاکھ ڈالر) کردی گئی۔ ٹرمپ اب 23سال پہلے کی ہی تنخواہ پر کام کریں گے۔یہ یاد رہے امریکی آئین کے مطابق صدر کی تنخواہ ان کی مدت ملازمت کے دوران تبدیل نہیں کی جا سکتی۔تنخواہ کے علاوہ صدر کو ایک کروڑ39لاکھ روپے( 50 ہزار ڈالر ) سالانہ الاؤنس ، 2کروڑ78لاکھ روپے( ایک لاکھ ڈالر)نان ٹیکس ایبل ٹریول الاؤنس جب کہ انٹرٹینمنٹ الاؤنس53لاکھ روپے(19 ہزار ڈالر) ملتے ہیں ۔تنخواہ کے علاوہ صدر کو بم اور بلٹ پروف گاڑی لیموزین، میرین ون اور ایئر فورس ون میں مفت ٹرانسپورٹیشن اور بلاشبہ وائٹ ہاؤس میں مفت رہائش ملتی ہے۔ 4 ہزار اسکوائر فٹ کا ائرفورس ون طیارےمیں صدر کی پرسنل آفس اور آرام کے ساتھ 100 لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش بھی ہے۔