اہداف سے انحراف، منی بجٹ کیلئے دباؤ، مذاکرات کیلئے IMF کا مددگار مشن آئندہ ہفتے پاکستان آئے گا

07 نومبر ، 2024

اسلام آباد(تنویر ہاشمی،مہتاب حیدر)اہداف سے انحراف پر منی بجٹ لانے کیلئے دبائو، مذاکرات کیلئے IMF کا مددگار مشن آئندہ ہفتے پاکستان آئیگا، پہلے نصف (جولائی-دسمبر) میں 321 ارب روپے کے ٹیکس خسارے کا امکان ہے،ٹیم آئندہ قسط کےلیے پہلے جائزہ مذاکرات نہیں کرے گی، کارکردگی کے اہداف میں بڑے "انحراف" کے بعد، آئی ایم ایف نے اگلے ہفتے اسلام آباد میں اپنا ہنگامی مشن بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مذاکرات کیے جائیں اور ایک منی بجٹ کے نفاذ کے ذریعے اصلاحات کے لیے زور دیا جائے، آئی ایم ایف کی سٹاف ٹیم ناتھن پورٹرکی سربراہی میں 11نومبر سے 15نومبر تک معاشی صورتحال کا جائزہ لینےکےلیے پاکستان کا دورہ کرے گی ،ٹیم پاکستان میں آئی ایم ایف قرض پروگرام کا بھی جائزہ لے گی جبکہ ایف بی آر کی جانب سے رواں مالی سال کےپہلے چارہ ماہ کےدوران جمع کیے جانیوالے ٹیکس ریونیو کے ہدف میں شارٹ فال کا بھی جائزہ لے گی ، آئی ایم ایف کے مطابق ا سٹاف ٹیم آئندہ قسط کےلیے پہلے جائزہ مذاکرات نہیں کرے گی ،دوسری قسط کےلیے پہلے جائزہ مذاکرات سال 2025کی پہلی سہ ماہی سے قبل نہیں ہونگے ، ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر نجکاری علیم خان ، وزیر توانائی اویس لغاری ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، گورنر سٹیٹ بنک جمیل احمد ، چیئرمین ایف بی آر راشد محمد لنگڑیال سمیت دیگر متعلقہ شعبوں کے سربراہوں سے مذاکرات کرے گی ، مذاکرات کے دوران آئی پی پیز کے ساتھ ہونیوالے مذاکرات ، سرکلر ٰڈیبٹ مینجمنٹ پلان کے علاوہ پی آئی اے ، ڈسکوز سمیت دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری کا بھی جائزہ لیاجائےگا جب کہ ٹیکس ریو نیو ہدف کے حصول کےلیے منی بجٹ سمیت ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال بھی کیا جائے گاْ۔آئی ایم ایف کا عملہ 11 سے 15 نومبر 2024 تک اسلام آباد کا دورہ کرے گا۔ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخابات جیتنے کے فوراً بعد، آئی ایم ایف نے کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اپنا عملہ مشن پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا۔گزشتہ اتوار کو "دی نیوز" نے یہ خبر بریک کی اور اشارہ دیا کہ آئندہ ہفتوں میں مالیاتی اعداد و شمار میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آنے کے بعد آئی ایم ایف اپنا مشن پاکستان بھیج سکتا ہے۔اعلیٰ ذرائع نے کہا، "آئی ایم ایف کا عملہ، ناتھن پورٹر کی قیادت میں، 11 سے 15 نومبر کے درمیان پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ حالیہ پیشرفت اور اب تک کی کارکردگی پر بات کی جا سکے۔ یہ مشن EFF کے تحت پہلے جائزے کا حصہ نہیں ہے، جو 2025 کی پہلی سہ ماہی سے پہلے نہیں ہوگا۔آئی ایم ایف کے اس اچانک دورے کا فیصلہ بنیادی طور پر اس وجہ سے کیا گیا کہ پاکستانی حکام حالیہ دنوں میں منعقدہ ورچوئل میٹنگز کے ذریعے آئی ایم ایف کو اصلاحاتی ارادے پر قائل کرنے میں ناکام رہے، جس کے بعد آئی ایم ایف نے اپنا اعلیٰ سطحی عملہ اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ناتھن پورٹر کی قیادت میں آنے والا یہ مشن آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ کی سہولت (EFF) کے تحت اتفاق کردہ میکرو اکنامک اور مالیاتی فریم ورک میں ایڈجسٹمنٹ کے بعد منی بجٹ کے امکان پر بات چیت کر سکتا ہے۔تاہم، آئی ایم ایف کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی کہ یہ کوئی جائزہ مشن نہیں ہے کیونکہ آئی ایم ایف فروری-مارچ 2025 تک انتظار نہیں کر سکتا جب بجٹ کے اقدامات کے ذریعے اصلاحات کرنا ممکن نہ ہو۔ اسی لیے یہ ایک ہنگامی مشن ہے۔ یہ غیر معمولی ہے اور اس لیے آئی ایم ایف اگلے سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں پہلے جائزے کے انعقاد تک انتظار نہیں کر سکتا۔پہلی سہ ماہی (جولائی-ستمبر) میں مالی کارکردگی نے حیرت انگیز نتائج دکھائے، خاص طور پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) سے غیر ٹیکس آمدنی کی وجہ سے، جس کی وجہ سے مالیاتی سال کی کسی بھی سہ ماہی میں 20 سال بعد خسارہ اضافے میں تبدیل ہوا۔دوسری جانب، ایف بی آر نے اندرونی جائزے کیے اور معلوم ہوا کہ پہلے نصف (جولائی-دسمبر) میں 321 ارب روپے کے ٹیکس خسارے کا امکان ہے۔