ترقی پذیر ممالک میں سپر پاور کے صدر کو اختیارات کا سپرمین سمجھنا درست نہیں

08 نومبر ، 2024

اسلام آباد (فاروق اقدس/تجزیاتی جائزہ) ترقی پذیر ممالک میں سپر پاور کے صدر کو اختیارات کا سپرمین سمجھنا درست نہیں،یہ تاثر بھی غلط ہے کہ وہ اوول آفس سے فون کرکے دوسرے ملک میں جیل کے قیدی کو رہا کراسکتا ہے ۔ دنیا کی سپرپاور امریکہ کے صدر کو بھی طاقت اور اختیارات کے حوالے سے سپرمین سمجھنے کا تاثر پایا جاتا ہے اور عام طور پر بالخصوص ترقی پذیر اور معاشی طور پر کم تر ممالک میں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وائٹ ہائوس کا مکین اوول آفس میں بیٹھ کر امریکی صدر کی حیثیت سے ہر معاملے میں قطعی طور پر خودمختار ہوتا ہے اور جو چاہے کر سکتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ بعض امور میں امریکی صدر کی حیثیت بھی Ceremonial (نمائشی) ہوتی ہے۔ اس کے اختیارات محدود بھی ہیں اور کئی حکومتی ادارے ان کے اختیارات کے شراکت دار بھی جن کی مشاورت اور شراکت کے بغیر وہ تن تنہا فیصلے نہیں کرسکتے۔ تاہم اگر پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طاقت کو پاکستان تحریک انصاف کی توقعات جس کی امیدیں وہ عرصے سے لگائے بیٹھے ہیں کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ تاثر دیئے جانے کی کوششیں کی جارہی ہیں کہ بس اب ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس سے ایک فون کرنا ہے اور پاکستان کی جیل سے قیدی نمبر804 کی رہائی کے احکامات ہنگامی طور پر جاری ہوجائیں گے اور انہیں پورے پروٹوکول کے ساتھ بنی گالہ پہنچا دیا جائے گا۔