کالعدم تنظیم نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہے، طلعت عزیز، بی ایل اے چھوڑنے کا اعلان

09 نومبر ، 2024

کوئٹہ ( اسٹاف رپورٹر) موسی خیل راڑشم قومی شاہراہ پرآٹھ روز قبل سی ٹی ڈی کے آپریشن میں گرفتار ہونے والے کالعدم تنظیم کے دہشت گردپنجاب یونیورسٹی کے طالب علم طلعت عزیز نے بی ایل اے چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیم کی جانب سے پہاڑوں پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کو گمراہ کرکے انہیں پنجابیوں اور نہتے لوگوں کو مارنے پر آمادہ کیا جارہا تھا۔ پہاڑوں پر ایسے نوجوان بھی موجود ہیں جنہیں لاپتہ افراد ظاہر کیا جا رہا ہے بلوچ نوجوان ایسے لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں جو ان کا مستقبل خراب کر رہے ہیں ۔ انہوں نے یہ بات سول سیکریٹریٹ کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں کہی ۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران، ترجمان صوبائی حکومت شاہد رند اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورائیہ موجو دتھے۔ طلعت عزیز نے بتایا کہ اس کا تعلق کوئٹہ سے ہے اور ابتدائی تعلیم یہیں حاصل کی، میٹرک کے بعد سبی کالج میں داخلہ لیا اور پھر اچھے نمبروں کی بنیاد پر پنجاب یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے شعبے میں اسکالر شپ پر داخلہ مل گیا ۔ وہاں تھرڈ ایئر میں زیر تعلیم ہوں ۔میرا رابطہ کچھ بلوچ کونسل کے طلبہ سے ہواجنہوں نے میری غلط ذہن سازی کی۔ کچھ ساتھیوں نےمجھےکوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاجی دھرنے میں شرکت کے لیے آمادہ کیا۔ اس دوران کچھ ایسے لوگوں سے رابطہ ہوا جو مجھے پہاڑوں پر لے گئے۔ وہاں میں نے دیکھا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو گمراہ کرکے انہیں پنجابیوں اور نہتے لوگوں کو مارنے پر آمادہ کیا جارہا ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ میں نے غلط راستے کا انتخاب کر لیا ہے۔ا ور وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی ۔طلعت عزیز کہا کہ پہاڑوں پر ایسے نوجوان بھی موجود ہیں جن کی تصویریں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاجی دھرنے میں دیکھی تھیں جنہیں لاپتہ ظاہر کیا گیا ہے ۔میں بلوچ نوجوان کوکہتا ہوںکہ وہ ایسے لوگوں کی باتوں میں نہ آئیں جو ان کا مستقبل خراب کر رہے ہیں۔ میں ایک پڑھا لکھا نوجوان ہوں لیکن ان کی وجہ سے اپنا مستقبل گنوا دیا۔قبل ازیں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز احمد گورائیہ نے کہا کہ راڑہ شم میں معصوم پاکستانیوں کے قتل کے بعد لوگوں میں غم اور غصہ تھا ۔ مرکزی اور بلوچستان حکومت کی ہدایات کے بعد سی ٹی ڈی، انٹیلی جنس ایجنسیوں، ایف سی، پولیس اور لیویز نے مل کر کام کیا اور اہم کامیابی حاصل کر لی۔ انہوں نے کہا کہ 3نومبر کو موسیٰ خیل میں آپریشن کے دوران تین دہشت گرد مارے گئے اور دو کو گرفتار کرلیا گیا تھا ۔ گرفتار دہشت گردوں نے دوران تفتیش بتایا کہ وہ بھی حملے میں ملوث تھے اور ہتھیاروں کی سپلائی کا ا انکشاف کیا۔ڈی آئی جی نے کہا کہ ہمیں واقعے میں ملوث تمام دہشت گردوں اور سہولت کاروں کے بارے میں معلومات مل گئیں ہیں جن کی بنیاد پر موسیٰ خیل، لورالائی، دکی اور اطراف میں آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جو گزشتہ دو دنوں سے جاری ہے۔ انہوں نےکہا کہ گرفتار ہونے والوں میں ایک 16 سالہ لڑکا بھی شامل ہے جس نے دوران تفتیش بتایا کہ کارروائیوں میں بچوں کو بھی اسلحے کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک اور دہشت گرد تنظیم کے ساتھ رابطے ثابت ہوئے ہیں جس کے لوگ وہاں پر موجود ہیں جن سے یہ اسلحہ بھی خریدتے ہیں تنظیم نے ایسے چھوٹے بچوں، سکول اور کالجز کے طالب علموں کو پچاس 50 ہزار روپے دے کر بھرتی کیا جن کے مالی حالات اچھے نہیں تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہم پنجاب یونیورسٹی اور پنجاب حکومت کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں تاکہ اس کا تدارک کیا جا سکے۔ حکومت ہر بات پر ڈنڈا نہیں اٹھانا چاہتی، لوگوں کو شدت پسندی کی طرف راغب ہونے سے بچانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، سکولوں کالجوں کا سروے کیا جا رہا ہے تاکہ سکیورٹی اداروں، حکومت اور پالیسی سازوں کو خامیوں کا اندازہ ہو سکے اور انہیں دور کیا جائے۔اس موقع پر صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں نوجوانوں کو ورغلا رہی ہیں۔ معصوم لوگوں کا قتل کرکے کون سی آزادی لینا چاہتے ہیں ، بندوق کی بجائے قلم کا سہارا لیں کیونکہ قلم ہی جینا سکھاتا ہے، افسر بناتا ہے اور عزت فراہم کرتا ہے۔ حکومت کی کوشش ہو گی کہ طلعت عزیز اپنی تعلیم مکمل کرے اور ایک اچھا افسر بن کر اس دھرتی کی خدمت کرے ۔ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے کہا کہ ہمیں نہ صرف بلوچستان بلکہ پنجاب اور دوسرے صوبوں میں بھیجے گئےطالب علموں پر بھی دھیان دینا چاہیے، انہیں ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے کہ یہ بھٹک نہ جائیں۔ ماضی میں مسائل رہے ہیں، گڈ گورننس میں ناکامی کے ذمہ دار سیاسی لوگ ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی یہ کوشش ہے کہ نوجوانوں کو وفاق کے قریب لائیں۔ اس سلسلے میں نوجوانوں کو ہنرمند بنانے اور اندرون و بیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے سکالر شپ فراہم کی جا رہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان کی طرح صوبائی سطح پر ایک کثیرالجہتی پلان بنا رہی ہے جس میں تعلیم، صحت سمیت تمام شعبوں کی بہتری، ترقی اور گورننس کے ماڈل کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔