اسموگ، پارک،چڑیا گھر،میوزیم ،کھیل کے میدانوں میں شہریوں کے جانے پر پابندی

09 نومبر ، 2024

لاہور(خصوصی رپورٹر،نیوز رپورٹر،اپنے نامہ نگار سے)اسموگ کے تدارک کیلئے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات تاحال بے فائدہ اور بے نتیجہ ثابت ہوئے ہیں جبکہ آلودگی کی صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے، لاہور میں پیر اور منگل 11 اور 12نومبرکو مصنوعی بارش برسانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔دوسری جانب حکومت نے احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام پارکس ، چڑیا گھر ، عجائب گھر ، کھیلوں کے تمام مقامات پر شہریوں کے جانے پر مکمل پابندعائد کر دی گئی،گوجرانوالہ ، لاہور، ملتان اور فیصل آباد ڈویژنز میں پابندی کا اطلاق ہوگا ۔حکومتی ہدایات کےمطابق شاہی قلعہ لاہور ، شالیمار باغ ،مقبرہ جہانگیر ، مقبرہ نور جہاں ، شاہی حمام دہلی گیٹ، وزیر خان بارہ دری سیاحوں کے لئے بند رہیں گے، 17 نومبر تک اس پابندی کا اطلاق رہے گا ۔ان مقامات پر تمام ادبی تقریبات بھی روک دی گئیں۔دوسری جانب لاہور اور ملتان سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں سموگ کی شدت برقرار ہے جس کی وجہ سے شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہور ہے ہیں ، دمہ کے مریضوں کے لئے مشکلات مزید بڑھ گئیں ۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ملتان شہر کی فضا انتہائی مضر صحت ہے،پارٹیکولیٹ میٹرز کی تعداد 1635 تک جا پہنچی،شہر کے کئی علاقے شدید سموگ کی لپیٹ میں رہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں گرین لاک ڈائون کے باوجود ایئر کوالٹی انڈیکس 700 سے تجاوز کر گیا ہے، شہر کے متعدد علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 1000 سے بھی اوپر چلا گیا۔ پاکستان کے سات بڑے شہر سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ان میں ملتان، لاہور ،پشاور، اسلام آباد ودیگر شہر شامل ہیں۔سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے اینٹی سموگ مہم کا آغاز کر دیا ہے جس کے تحت باربرداری کی گاڑیوں کو ترپال سے ڈھانپنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ ، سکول نہ جانے کا مطلب پکنک منانا نہیں، اپنی اور دوسروں کی جانیں بچانا ہے۔