بجلی ترسیل وتقسیم، سرکاری کمپنیوں کی اجارہ داری ، نجی سرمایہ کاری میں رکاوٹ

09 نومبر ، 2024

اسلام آباد(تنویر ہاشمی ) کمپی ٹیشن کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق بجلی کی ترسیل اور تقسیم میں سرکاری کمپنیوں کی اجارہ داری ، فرسودہ بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی چیلنجز نئے مارکیٹ میں نجی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہیں، بجلی کے شعبے میں جلد از جلد، نیپرا کا منظور شدہ ’تجارتی دو طرفہ کنٹریکٹ ماڈل نافذ کیا جائےتاکہ بجلی کی ڈسٹری بیوشن کمپنیاں کسی بھی پاور پلانٹ سے بجلی کی ترسیل کا معاہدہ کر سکیں، اس کیلئے سینٹرل پاور پرچیز کمپنی کا کردار ختم ، بجلی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری و اپ گریڈیشن اور کراس ٹیرف پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے،کمپی ٹیشن کمیشن نے پاور سیکٹر میں مسابقت کی صورتحال پر رپورٹ جاری کر دی ، رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاور سیکٹر میں نجی شعبے کی شمولیت میں رکاوٹیں ہیں اس لیے اس شعبے میں مسابقت پیدا نہیں ہوسکی اور مارکیٹ میں نئی کمپنیاں داخل نہیں ہو سکیں،سی وجہ سے صارفین کے مفادات کا تحفظ بھی نہیں کیاجاسکا ، ان رکاوٹوں میں ڈھانچہ جاتی رکاوٹیں ، ریگولیٹری رکاوٹیں اور مارکیٹ میں مسابقت مخالف سرگرمیاں شامل ہیں ، رپورٹ کے مطابق بجلی کی پیداوار ، ترسیل اور ڈسٹربیوشن ، ٹرانسمیشن لائن کیلئے پاور پلانٹس میں نئی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، بجلی کی پیداوار کی سہولیات اور طلب کے مراکز کے مابین طویل فاصلے ہیں جس کی وجہ سے ٹرانسمیشن نقصان بہت زیادہ ہے، ریگولیٹری رکاوٹوں کی طویل فہرست ہےجن میں پالیسی اور منصوبہ بندی معاملات میں پالیسیوں پر بروقت عملدرآمد نہ ہونا ، ریگولیٹری اور مالیاتی تضادات جن کے باعث ناقابل حل گردشی قرضہ کا معاملہ ، غیر متوازن بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ، نان ٹارگٹڈ بجلی پر دی گئی سبسڈیز اور سبسڈی پر پالیسیوں میں تبدیلی شامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ پالیسیوں پر عملدرآمد اور انفورسمنٹ نہ ہونا ، لوڈ شیڈنگ کی مینجمنٹ میں مختلف علاقوں میں غیر متوازن اور غیر مناسب شیڈول کا اطلاق اور مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے تفریق عدم مساوات نے بجلی کے شعبے کی کریڈیبلیٹی کو کمتر کیا ، توانائی کی مربوط منصوبہ بندی کے فقدان نے بجلی کی پیداوار اور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر میں عدم توازن پیدا کیا ، جس کے باعث حد سے زیادہ کیسپٹی ادائیگیاں کرنا پڑرہی ہیں اس طرح مستقبل کی بجلی کی ضرورت سے متعلق ناکامی ہوئی ، سیاسی اور سماجی دبائو کے باعث بجلی کی لاگت کے مطابق قیمتوں کا تعین میں غیر ضروری تاخیر نے گردشی قرضے کا جنم دیا ، بجلی کے شعبے کی مالیاتی ابتری نے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بڑی رکاوٹ رہی ہے، اسی طرح قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک میں مسائل ہیں جس کے باعث اس شعبے کو جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مطابقت پیدا نہ ہوسکی ، رپورٹ کے مطابق سٹریٹجک رکاوٹوں میں حکومت کی سرکاری ڈسٹربیوشن کمپنیوں نے مسابقت کی فضا پیدا نہ ہونے دی اور اجارہ داری قائم رکھی جس سے بجلی کی سہولیات اور خدمات کی فراہمی میں بدترین کارکردگی رہی ، تکنیکی اور کمرشل نقصانات ہوئے ، بجلی کی چوری ہورہی ہےاور مینجمٹ نہایت ناقص ہے، اسی طرح ٹرانسمیشن اور ڈسٹربیوشن میں سرکاری کمپنیوں کے غالبے کے باعث نجی شعبے کی شراکت بہت محدود ہے اور مسابقت بھی محدود ہو گئی ہے ،رپورٹ میں پاور سیکٹر، خاص طور پر بجلی کی ترسیل اور ڈسٹری بیوشن کے شعبوں میں سرکاری اداروں اور کمپنیوں کو اجارہ داری اور اس شعبے پر اسکے اثرات کی تفصیل دی گئی ، کمپی ٹیشن کمیشن نے پاور سیکٹر میں کمپی ٹیشن کو فروغ دینے کیلئے سفارشات بھی دیں ہیں۔کمپی ٹیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا ہے کہ اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے اور صارفین کیلئے سستی بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے بجلی کے شعبے میں مسابقت پیدا کرنا بہت ضروری ہے ۔