فسادیوں کو اب کوئی موقع نہیں دیا جائے گا ، فورسز نے حکمت عملی سے دھرنے کا خاتمہ کیا اور عوام کو سکون ملا ، شہباز شریف ، پی ٹی آئی لاشوں پر سیاست کرنا چاہتی ہے ، آپریشن میں کوئی اسلحہ استعمال نہیں ہوا ، عطا تارڑ

28 نومبر ، 2024

اسلام آباد ( خبر ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آرمی چیف نے اسلام آباد میں لشکر سے نمٹنے کیلئے بھرپور تعاون فراہم کیا۔ سیکورٹی اداروں نے بہت اچھی حکمت عملی سے دھرنے کا خاتمہ کیا اور عوام کو سکون میسر ہوا۔ یہ فسادی اور ترقی کے مستقل دشمن ہیں، آج کے بعد ان کو مزید موقع نہیں دیا جائے گا۔جبکہ وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہےپی ٹی آئی لاشوں پر سیاست کرنا چاہتی ہے، آپریشن میں کوئی اسلحہ استعمال نہیں ہوا۔ مظاہرین پر کوئی فائرنگ کی گئی نہ جانی نقصان ہو ا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں خاص طور پر اور ملک میں عمومی طور پر معیشت کو جو نقصان پہنچا وہ سامنے ہے۔ یہاں پر کئی روز سے دکانیں بند تھیں، فیکٹریوں والے اور دیہاڑی دار مزدور بھی پریشان تھے اُن کی ایک وقت کی روٹی محال ہوگئی تھی۔ احتجاج کی وجہ سے اسپتالوں میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جڑواں شہر میں بھی زندگی تقریبا معطل ہوچکی تھی، احتجاج کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج نیچے آیا جبکہ چند دن پہلے انڈیکس 99 ہزار 300 تک پہنچا گیا تھا۔فسادیوں اور ترقی و خوشحالی کے مستقل دشمنوں کی وجہ سے یہ گزشتہ روز نیچے گیا اور پھر تقریباً 4 ہزار پوائنٹس بڑے ہیں۔ سرمایہ کار ایک آزاد پرندے کی طرح ہوتا ہے اُس کو جہاں سکون میسر ہو اور شور شرابہ نہ ہو وہاں پر سرمایہ کاری کرتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سخت فیصلے کریں کیونکہ وطن کی ترقی، خوشحالی کے علاوہ ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ آج کے بعد ان فسادیوں اور پاکستان کے دشمنوں کو مزید موقع نہیں دیا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہر روز فسادی اگر یہاں جنگ کا میدان لگائیں گے تو ہم بحالی کی طرف جائیں یا پھر ان پر اپنی توانائیاں سرف کریں، اب قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ احتجاج کی سیاست کو جاری رکھنا ہے یا پھر ملک کی معیشت و بحالی کو دیکھنا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ اگر 9 مئی کے ملزمان کو قرار واقعی سزائیں دی جاتیں تو پھر ہم یہ دن آج نہیں دیکھ رہے ہوتے، اسلام آباد میں مظاہرین نے رینجرز کے جوانوں اور اسلام آباد پولیس کے اہلکار کو شہید کیا، فسادیوں کے پاس اسلحہ تھا۔ پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شاباش دیتا ہوں جنہوں نے حملے کو ناکام بناکر فسادیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، پارا چنار، کرم میں حالات کشیدہ ہیں، خیبرپختونخوا حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ اپنی تمام تر توجہ وہاں پر لگادیتی۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نعمت ہے اور اگر ہم نے اس کی قدر نہیں کی تو یہ شہدائے پاکستان، قائد اعظم کے نظریے سے روح گردانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج غریب کیلیے زندگی تنگ ہوچکی ہے اور وہ اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے قابل نہیں رہا۔وزیراعظم نے کہا کہ سپہ سالار نے اسلام آباد میں فسادیوں سے نمٹنے کیلیے بھرپور تعاون فراہم کیا جس پر ہم اُن کے بھی مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اُن کو تکلیف یہ ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ ہونے سے کیسے بچ گیا، عقل کے اندھوں، اتحادی جماعتوں نے اپنا سب کچھ ملک کیلیے قربان کیا، جس کے بعد اب معیشت مستحکم اور اعشاریے اوپر جارہے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے بدترین مخالف بھی معیشت بحالی کا اعتراف کررہے ہیں، ملک کی معیشت کا بہتر ہونا کسی معجزے سے کم نہیں، تاریخ میں پہلی مرتبہ فوج کے سپہ سالار یک جاں دو قالب کی طرح کام کررہے ہیں۔ دل خوں کے آنسو روتا ہے، ہم ان فسادیوں کے ہاتھوں پاکستان کو تباہ نہیں ہونے دیں گے، الیکشن میں دھاندلی کا شور مچانے والے 2018 کی دھاندلی کا پہلے حساب دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2018 میں جب دھاندلی کے بعد ہم حلف لینے اسمبلی گئے تو عمران خان نے مجھ سے ملاقات کے بعد انکوائری کمیٹی بنانے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد اُس کمیٹی کی صرف ایک یا دو میٹنگز ہوئیں۔ یہ دھاندلی کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں مگر ہم یا کسی اور جماعت نے ایسی روش اختیار نہیں کی، کسی جماعت کے احتجاج میں گملا تک نہیں ٹوٹا، احتجاج کی وجہ سے 190 ارب روپے کا یومیہ نقصان قومی معیشت کو پہنچ رہا ہے۔چند دن پہلے جس طرح ایک دوست ملک کو تکلیف پہنچائی گئی اُس سے بڑی دشمنی نہیں ہوسکتی۔ ہمیں ان حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا ہوگا۔دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ و ثقافت عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی بغیر ثبوت لاشوں پر سیاست کرنا چاہتی ہے، سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں کوئی اسلحہ استعمال نہیں ہوا، اگر لاشیں گری ہیں تو پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر ثبوت پیش کریں، پی ٹی آئی نے اپنے احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، جدید اسلحہ سے لیس شرپسندوں نے اسلام آباد پر حملہ کیا۔ بدھ کو پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے اہم گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، پی ٹی آئی کے شرپسندوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا،املاک کو نقصان پہنچایا، رینجرز اور پولیس کے جوان شہید کئے، اس کے بعد مظلومیت کا پرچار کرنا اور اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے لاشوں کا سہارا لینا انتہائی مکروہ اور قبیح فعل ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اپنے ہمراہ خیبرپختونخوا حکومت کے جدید اسلحہ سے لیس سادہ کپڑوں میں پولیس اور سکیورٹی اہلکار ہمراہ لائے، ان کے پاس آنسو گیس شیل اور شیل فائر کرنے والی گنز تھیں، انہوں نے پتھرائو کیا، غلیلوں اور بنٹوں سے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا، ان کی طرف سے لاشوں کی بات کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے بغیر ثبوت اور دلیل کے سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا شروع کیا اور جھوٹ بولا کہ لاشیں گری ہیں، لوگ مرے ہیں۔ تھوڑی دیر پہلے پولی کلینک انتظامیہ نے بھی بیان جاری کیا ہے کہ یہاں کوئی لاشیں نہیں آئیں، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر تحریک انصاف والے صبح سے پرچار کر رہے تھے کہ لاشیں گری ہیں، یہ واحد سیاسی جماعت ہے جو لاشوں کی تلاش میں رہتی ہے، کوئی بھی لاش گرے تو کہتے ہیں ہمارے لوگ شہید کئے گئے۔ وفاقی وزیر عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ رات ڈی چوک سے سیونتھ ایونیو تک پورے ایریا کا چکر لگایا اور رات بھر وہاں موجود رہے، نہ گولیوں کے خول تھے نہ کسی قسم کی فائرنگ ہوئی، نہ ان کے لوگوں کو ڈائریکٹ ٹارگٹ کیا گیا، پھر بھی انہوں نے راہ فرار اختیار کی اور موقع سے بھاگے ، اس فرار کے جواز کے طور پر یہ توجیح پیش کی جا رہی ہے کہ ہمارے لوگوں کو مارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دھرنے سے 37 افغان باشندے گرفتار ہوئے، ان کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے لوگ بھی تھے جن کا دہشت گردی، چوری، ڈکیتی سے تعلق ہے اور مختلف وارداتوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاشوں کی بات کرنے والے ثبوت پیش کریں، کہاں ہے پوسٹ مارٹم رپورٹ، جھوٹا بیانیہ گھڑنے میں یہ بہت تیز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی احتجاج میں 150 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے، پولیس اور رینجرز کے اہلکار شہید ہوئے، ان کے لوگوں کو اسلحہ چلاتے ہوئے دیکھا گیا ہے، یہ شیل فائر کر رہے تھے، ان لوگوں کے بارے میں یہ کیا جواب دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیلاروس کے صدر کے دورے کو سبوتاژ کرنا چاہتی تھی، یہ چاہتے تھے کہ شہر کے امن کو خراب کیا جائے، معیشت اور پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جتنا بھی تشدد ہوا پی ٹی آئی کی طرف سے ہوا، انہوں نے فورسز کے جوانوں کو شہید کیا، تشدد کے واقعات میں ان کے لوگ ملوث پائے گئے، جو لوگ گرفتار ہیں ان سے تفتیش ہو رہی ہے، 37 افغان باشندوں سے ہم نے 43 گنیں برآمد کی ہیں، گرینیڈ، گنز، آنسو گیس چلانے والی گنز، جدید اسلحہ ان کے پاس تھا، یہ اس نیت سے آئے تھے کہ امن خراب کرنا اور حملہ کرنا ہے، اس کے بعد لاشوں پر سیاست کرکے کہنا کہ ہمارے لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں۔ عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ یہ اس لئے بھاگے ہیں کہ ان کا منصوبہ اور سیاسی بیانیہ ناکام ہو چکا تھا، ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، ان کے پاس لوگ نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ 2014ءکے دھرنے کے بعد یہ کوئی دھرنا یا احتجاج کسی مدد کے بغیر نہیں کر سکے۔ عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ بشریٰ بی بی خون بہانے کی نیت سے آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کو آج کے بعد پگ نہیں پہننی چاہئے، وہ اپنی گرفتاری کے خوف سے دوسری مرتبہ ڈی چوک سے اپنے ورکروں کو بے سروسامان چھوڑ کر فرار ہوئے، سیاسی تحریکیں اس طرح نہیں چلتیں، سیاسی تحریکوں میں بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ قومی نظریئے کے ساتھ ہم نے ملک و قوم کے مفاد کے لئے کام کرنا ہے، یہ لوگ ناکام ہو چکے ہیں، ان کا نظریہ ناکام ہو چکا ہے، ان کی سیاست ناکام ہو چکی ہے، یہ لوگ جوتیاں اور کپڑے تک وہاں چھوڑ کر بھاگے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ لاشیں گرانے کا الزام انہیں ثابت کرنا ہوگا، ہم نے ان کی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی، انہوں نے بیانیہ بنایا کہ رینجرز کے اہلکار اپنی ہی گاڑی کی ٹکر سے شہید ہوئے، ہم نے ایبٹ آباد سے بندا پکڑا، سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ احتجاج کے دوران ان کی سیاسی قیادت کہاں تھی، عاطف خان، شہرام تراکئی، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، حماد اظہر، شیخ وقاص کدھر تھے، ان کے پاس لوگ نہیں تھے، یہ گرفتاری کے ڈر سے بھاگے ہیں اور الزام لگا رہے ہیں کہ لاشیں گری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ، مکاری، منافقت اور تشدد کی سیاست عوام نے مسترد کر دی ہے، آئندہ آپ قومی مفاد کے خلاف اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی جرأت نہیں کر سکیں گے۔