لاشیں گریں تو ثبوت لائیں، پی ٹی آئی ہلاکتوں کی تفصیل دے، وزیر داخلہ، لشکر سے نمٹنے کیلئے آرمی چیف کا تعاون رہا، سخت فیصلوں کا وقت آگیا، وزیراعظم

28 نومبر ، 2024

اسلام آباد (طاہر خلیل)وزیر داخلہ محسن نقوی نے چیلنج کیا ہے کہ مخالفین پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ 33 لاشیں ہسپتال میں لائی گئیں ، آپ کسی ایک کا نام بتا دیں ، آپ عزت سے واپس چلے گئے یہی کافی ہے ۔ انکے ہاتھوں میں کیمرے تھے اگر سیکورٹی اہلکاروں کی ایک تصویر گولی چلاتے ہوئے لے لیتے اب تک پوری دنیا میں پھیلا چکے ہوتے وزیر داخلہ نے دو ٹوک اعلان کیا کہ اسلام آباد میں مقیم افغان باشندوں کو 31 دسمبر تک این او سی لینا ہو گا ، وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا کہ این او سی کے بغیر کسی افغان باشندے کو اسلام آباد میں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کےباوجود اسلام آبادپر دھاوا بولنے ، سکیورٹی اہلکاروں پر جدید اسلحہ اور آنسو گیس فائرنگ ، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی پر وزارت داخلہ توہین عدالت کی درخواست دائر کریگی ،افغانیوں سمیت کسی غیر ملکی کو حملہ آور ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ، 31 دسمبر کے بعد کوئی افغانی بغیر این او سی کے اسلام آباد میں نقل و حرکت یا رہائش نہیں رکھ پائے گا ، مظاہرے کے دوران پی ٹی آئی کی جانب سے درجنوں ہلاکتوں کا دعوی بے بنیاد ہے ، اسلام آباد پولیس اور معاون فورسز کے پاس مظاہرین کو روکنے کے دوران کسی قسم کا اسلحہ موجود ہی نہیں تھا ۔وہ بدھ کو اسلام آباد ایف ایٹ انڈر پاس منصوبے کے دورہ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے ۔ چیف کمشنراسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعلی خیبر پختونخواہ کے وزیراعلی اسلام آباد مظاہرے سے بھاگنے کے بعد ابھی منظر عام پر آئے ہیں ، پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر پراپیگنڈے میں مصروف ہے ۔کچھ لوگ صبح سے اسلام آباد کی ہسپتالوں میں میتیں ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مظاہرین کے ہاتھوں میں کیمرے تھے اگر سکیورٹی اہلکاروں کی ایک تصویر گولی چلاتے ہوئے لے لیتے تو اب تک پوری دنیا میں پھیلا چکے ہوتے ،دراصل اب انھیں شرمندگی چھپانے کا طریقہ سمجھ نہیں آرہا، وزیراعلی کے پی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ عزت سے واپس کے پی کے میں پہنچ چکے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ غیر قانونی جتھوں کے حملوں میں سکیورٹی اہلکار روکتے ہیں اور اس دوران لوگ زخمی ہوتے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے سکیورٹی اہلکاروں کے پاس آپریشن کلین اپ کے دوران بھی ماسوائے آنس گیس ، حفاظتی شیلڈ اور لاٹھیوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پر پابندی کا علم نہیں ہے لیکن اس سارے واقعہ کی تفصیلی رپورٹ تیار کر لی ہے جو نہ صرف کابینہ میں پیش کروں گا بلکہ اس کی بنیاد پر عدالت میں توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی جائے گی ۔