تحریک انصاف کابانی چیئرمین تک فوری رسائی فراہم کرنے کا مطالبہ

02 دسمبر ، 2024

اسلام آباد ( آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی کی جیل میں صحت و سلامتی کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بانی چیئرمین عمران خان تک اہلِ خانہ، وکلا اور جماعت کے ذمہ داران کی رسائی فی الفور بحال اور قوم کو تفصیلات سے آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم پاکستان اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی مبینہ طور پر اڈیالہ جیل سے کسی اور مقام پر منتقلی اور ان کی صحت و سلامتی کے حوالے سے زیرِ گردش افواہوں کے جائزے کیلئے تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا اور پوری صورتحال کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق سفّاک سرکار کے ہاتھوں جیل میں قید سابق وزیراعظم پاکستان اور بانی چیئرمین تحریک انصاف کی صحت و سلامتی نہایت حساس معاملہ ہے،آئین، قانون اور انسانیت کو جوتے کی نوک پر رکھنے والے مجرموں کی موجودگی میں اس حوالے سے قوم کے خدشات سنگین تر ہورہے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان تک اہلِ خانہ، وکلا اور جماعت کے ذمہ داران کی رسائی فی الفور بحال کی جائے۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ کارکنان سے ہماری التماس ہے کہ بیجا قیاس آرائیوں اور غیرمصدّقہ معلومات پر کان دھرنے کی بجائے کلیتاً مصدّقہ اطلاعات پر ہی انحصار کریں،وفاقی و پنجاب حکومتیں اور جیل انتظامیہ بانی چیئرمین عمران خان کی جیل میں صحت و سلامتی کے حوالے سے فوراً قوم کو تفصیل سے آگاہ کریں،عمران خان کی جیل میں صحت، سیکورٹی اور دیکھ بھال کے ذمہ داروں کے بارے میں بھی قوم کو مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ عدالت عمران خان کے بنیادی حقوق، ان کی صحت و سلامتی اور ان کی جیل میں سیکورٹی کو ہر لحاظ سے فول پروف بنائے، دورانِ قید اگر قوم کے مقبول ترین اور ملک کی سب سے بڑی جماعت کے قائد کی صحت و سلامتی سے کسی قسم کا کوئی کھلواڑ کیا گیا تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب ہی نہیں پورا ریاستی بندوبست اس کا ذمہ دار ہوگا۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں حکومت کے ہاتھوں ناحق شہید ہونے والے کارکنان، ان کے اہلِ خانہ کی تفصیلات کا مفصل جائزہ لیا گیا ۔زخمی، گرفتار اور جبراً لاپتہ کئے گئے کارکنان کی تفصیلات اور ان کی طبی و قانونی معاونت کے طریق کار پر سیرحاصل بحث کی گئی ۔کارکنان اور شہریوں کے خلاف درج سینکڑوں جھوٹے مقدمات، ان کے اخراج کے طریقہ کار پر غور کے ساتھ پچھلی تاریخوں سے مقدمات درج کرنے کے بدنیتی پر مبنی حکومتی عمل کی شدید مذمت کی گئی۔گرفتار کارکنان میں سے عدالتوں میں پیش کئے اور نہ کئے جانے والے کارکنان کی تفصیلات اور اس حوالے سے حکومتی طرزِ عمل کا بھی مفصل تجزیہ کیا گیا۔