کراچی ۔ خضدار ۔ چمن شاہراہ کو ترجیحی بنیادوں پر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ، بلوچستان ہائیکورٹ

03 دسمبر ، 2024

کوئٹہ (خ ن) بلو چستان ہا ئی کورٹ کے ججز جناب جسٹس عبداللہ بلو چ اور جسٹس جنا ب جسٹس اقبا ل احمد پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے قومی شاہراہ این 25کرا چی، خضدار،خضدار،کچلاک،چمن سے متعلق پلا ننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور این ایچ اے حکام کو ہدایت کی کہ مذکو رہ شاہرا ہ کے تمام جا ری اورآئندہ کے منصوبوں پر کا م ترجیحی بنیا دوں پر پا یہ تکمیل تک پہنچا یا جا ئے، بنچ نے قومی شاہرا ہ این85سوراب، گوادر روڈ سی پی ای ای سی روڈ کی مرمت اور دیکھ بھال سے متعلق پیش رفت رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہو ئے متعلقہ حکام ہدایت کی ہے کہ وہ باقی کام کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔گزشتہ روز سماعت کے دوران درخواست گزار الہی بخش مینگل ایڈووکیٹ،خالد کبدانی ایڈووکیٹ، دوست محمد مندوخیل ایڈووکیٹ ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نجم الدین مینگل اور نصیر احمد بنگلزئی،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نصرت بلوچ،نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے وکیل نجیب اللہ کاکڑایڈووکیٹ،ممبر ویسٹ زون بشارت حسین،محمد اختر ڈی ایس (جوڈیشل)پلا ننگ اینڈ ڈویلپمنٹ،جنرل منیجر (بلو چستان ویسٹ)گوادر سید اشرف علی شاہ، ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل عبدالمنان، ایم سی حب کے چیف آفیسرمسٹر نصیب ترین پیش ہو ئے۔گزشتہ روز سما عت شروع ہو ئی تو این ایچ اے کے ممبر کی جا نب سے 28اکتو بر 2024کے عدالتی حکم کی تعمیل کی روشنی میں ایک رپورٹ جمع کرائی گئی جس میں این-25 کراچی-خضدار، خضدار-کچلاک-چمن کی ڈوئلائزیشن/تعمیر کے حوالے سے بتایا گیا کہ 25.11.2024کو سیکریٹری پلاننگ اسلام آباد کی زیرصدارت ایک اجلاس منعقد ہوا اور حکومت پاکستان نے این-25 کی تعمیر/ڈوئلائزیشن کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل مسٹر نجم الدین مینگل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیراعظم پاکستان بھی این-25اور بلوچستان کے تمام زیرتعمیر سڑکوں اور ذرائع آمد و رفت کی تکمیل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور این ایچ اے حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام جاری منصوبوں اور آئندہ کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔بنچ کے جج نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ این-25کی ڈوئلائزیشن/تعمیر اپنے مقررہ تاریخ تک مکمل ہو جائے گی اور فنڈز کی کمی کا کوئی مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔اس موقع پر این ایچ اے کے ممبر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خضدار سے کڈکوشا تک کی ڈوئلائزیشن کا کام 60فیصدسے زائد مکمل ہو چکا ہے اور باقی ماندہ حصے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اراضی کے حصول کا عمل تقریبا مکمل ہے اور کراچی-خضدار اور کوئٹہ-چمن حصوں کے لیے تکنیکی بولی کی کارروائی مکمل ہو چکی ہے اور اس کے نتائج پیپر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جا چکے ہیں اگر کسی طرف سے اعتراضات موصول ہوئے تو ان پر 15سے 20دنوں میں فیصلہ کیا جائے گا اس کے بعد مالی بولیوں پر کارروائی کی جائے گی۔