حکومت IMFپروگرام کے تین بڑے اہداف حاصل کرنے میں ناکام

03 دسمبر ، 2024

اسلام آباد( رپورٹ ، تنویر ہاشمی ) حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے پہلے جائزہ میں تین بڑے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی، نیٹ ٹیکس ریونیو ، تعلیم اور صحت کے اخراجات کیلئے طے شدہ ہدف اور مقامی کرنسی ڈیبٹ سکیورٹیز کی میچورٹی حاصل نہیں کی جاسکی ،2652ارب کا ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوا /85ارب کا شارٹ فال ، 22 سٹرکچرل بینچ مارک پر جولائی 2025 تک عملدرآمد ہوگا،آئی ایم ایف نے پاکستان کو پروگرام کے 22سٹرکچرل بینچ مارک ہیں جن کو حاصل کرنا ہے ان میں سے 18وفاقی حکومت اور 4سٹیٹ بنک آف پاکستان سے متعلقہ ہیں ، دستاویزات کے مطابق ستمبر 2024کے آخر تک آئی ایم ایف کےساتھ طے شدہ اہداف میں سے تین اہم اہداف حاصل نہیں ہوئے جن میں پاکستان کو 2652ارب روپے کا نیٹ ٹیکس ریونیو حاصل نہیں ہوا اور 85ارب روپے کا شارٹ فال رہا ، ، تعلیم اور صحت کے شعبے پر 685ارب روپے کے اخراجات کا ہدف حاصل نہیں کیا گیا اور ستمبر 2024تک مقامی کرنسی ڈیبٹ سکیورٹیز سٹاک کی میچوریٹی حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا جبکہ دیگر اہداف میں صوبائی پرائمری بجٹ خسارہ کی اوسط سیلنگ 342ارب روپے حاصل کر لیاگیا ، اس کے علاہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کا وفاقی حکومت کو صفر قرضے کی فراہمی اور وفاقی حکومت کی جانب سےبیرونی قرضوں کی ادائیگی کے واجبات کی زیر و سیلنگ شامل ہیں ، آئی ایم ایف نے پاکستان کو دسمبر 2024کے آخر تک صحت اور تعلیم کے شعبوں پر 1405ارب روپے خرچ کرنے کا ہدف دیا ہے جبکہ ٹیکس ریونیو 6009ارب روپے جمع کرنے کا ہدف دیا ہے، حکومت نے ستمبر کےآخرتک صوبائی حکام نے نیٹ ٹیکس ریونیو کا ہدف حاصل کر لیا ہے اور 184ارب روپے جمع کیے ہیں ، ایف بی آر کی جانب سے ریٹیلرز سے تاجر دوست سکیم کے تحت دیا گیا ہدف حاصل کر لیا اور 10ارب روپے جمع کیے ہیں ٹیکس ریفنڈز کے بقایاجات کا ہدف بھی حاصل کر لیاگیااور 32ارب روپے کے ریفنڈز کی ادائیگی کی گئی ، پاور سیکٹر میں 255ارب روپے کےواجبات کی ادائیگی کی گئی اور ہدف حاصل کر لیاگیا ، آئی ایم ایف کے22سٹرکچرل بینچ مارک میں مالیاتی شعبے سے متعلقہ 8، گورننس سے متعلقہ دو ، سماجی شعبے سے ایک ، مانیٹری و مالیاتی شعبے سے پانچ ، پاور سیکٹر سے تین اور سرمایہ کاری پالیسی اور سرکاری انٹرپرائزز سے متعلقہ تین بینچ مارک ہیں۔