پر تشدد انتہا پسندی کی روک تھام کیلئے قومی پالیسی 2024منظور ، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس

03 دسمبر ، 2024

اسلام آ باد ( نیوز رپورٹر) وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر نیشنل پریوینشن آف وائلینٹ ایکسٹریمزم پالیسی(پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام کیلئے قومی پالیسی) 2024اور اسلام آباد سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے تجویز کی اصولی منظوری دیدی،وفاقی کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش پر مونو سوڈیم گلوٹامیٹ (اجینو موتو) کی درآمد پر پابندی اٹھانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کرنے کی منظوری دے دی، یہ فیصلہ ماہرین کی اس خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ہے جو کہ وزیراعظم آفس کی ہدایت پر مونو سوڈیم گلوٹامیٹ کی انسانی صحت پر اثرات کو جانچنے کے حوالے سے بنائی گئی تھی،اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مونو سوڈیم گلوٹامیٹ کو انسانی صحت کیلئے محفوظ قرار دیا ، اس کمیٹی میں پاکستان سائینٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ، نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر ، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ، انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ اینڈ نیوٹریشنل سائنسز، وفاقی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ، پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور سرمایہ کاری بورڈ کے نمائندگان شامل تھے، یہ منظوری گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس میں دی گئی۔وفاقی کابینہ نے وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کی سفارش پر یونیورسٹی آف کیمبرج ، سینٹ انٹونیز کالج یونیورسٹی آف آکسفورڈ، یونیورسٹی آف جارڈن، پیکنگ یونیورسٹی چین ، یونیورسٹی آف ہائیڈل برگ جرمنی میں پاکستان چئیرز کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں کی تجدید ، وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کی سفارش پر سینٹر آف ایکسیلنس ، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ، لاہور کے بورڈ آف گورنرز میں ڈاکٹر حبیب الرحمٰن اور ڈاکٹر کامران انصاری کی بطور سبجیکٹ ایکسپرٹس نامزدگی، وزارت وفاقی تعلیم و فنی تربیت کی سفارش پر سینٹر آف ایکسیلنس ان منرالوجی ، یونیورسٹی آف بلوچستان ، کوئٹہ کے بورڈ آف گورنرز میں ڈاکٹر ممتاز محمد شاہ اور ڈاکٹر محمد احمد فاروقی کی بطور سبجیکٹ ایکسپرٹس نامزدگی، وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر اور سندھ ہائی کورٹ کراچی کے احکامات کی روشنی میں سپیشل کورٹس کی حدود/دائرہ کار میں تبدیلی ، وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر اور بلوچستان ہائی کورٹ ، کوئٹہ کے احکامات کی روشنی میں سپیشل کورٹس (کسٹمز، ٹیکسیشن اینڈ اینٹی اسمگلنگ) کوئٹہ اور خضدار کے دائرہ کار میں تبدیلی، وزارت قانون و انصاف کی سفارش اور پشاور ہائی کورٹ ، لاہور ہائی کورٹ ، اسلام آباد ہائی کورٹ ، سندھ ہائی کورٹ، کراچی، بلوچستان ہائی کورٹ ، کوئٹہ کے احکامات کی روشنی میں ایڈیشنل سیشن ججز اور دوسری متعلقہ عدالتوں کو لائیرز ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2023 کے تحت مقدمات سننے کا اختیار دینے کی منظوری دے دی۔