یونین کے احتجاج نے سوئی گیس کی نقل و حمل کو تین ہفتے خطرے میں ڈالے رکھا

03 دسمبر ، 2024

اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) یونین کے احتجاج نے سوئی گیس کی نقل و حمل کو تین ہفتے خطرے میں ڈالے رکھا، عہدیدار کا کہنا ہے کہ داخلی و خارجی دروازے بند کردئیے گئے۔ سیکرٹری جنرل یونین سی بی اے کا کہنا ہے کہ معاملہ ختم ہوگیا، مطالبہ بلاجواز تھا۔ تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں سوئی فیلڈ سے نیشنل گرڈ تک گیس کی ترسیل گزشتہ تین ہفتوں سے خطرے میں رہی جس کی بنیادی وجہ سی بی اے یونین کی جانب سے ایک ملازم کی برطرفی کے خلاف احتجاج ہے، جو بعد میں ٹرک کا سکریپ چوری کرنے کا مجرم ثابت ہوا۔ یونین نے ملازمین کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر آپریشنز روک دئیے اور اہم کاروباری سرگرمیوں میں خلل ڈالا۔ پٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار نے سوئی فیلڈ کی صورتحال کے بارے میں 25 نومبر 2024 کو لکھے گئے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دی نیوز کو بتایا کہ یونین کی جانب سے داخلی اور خارجی راستوں کی جسمانی ناکہ بندی کے نتیجے میں فیلڈ انتظامیہ کی غیر قانونی حراست اور 17 ملازمین کو پی آئی اے کی پرواز کے ذریعے روانگی سے روک دیا گیا۔ عہدیدار نے بتایا کہ ذیشان غنی، ایک نان ایم پی ٹی (نان مینجمنٹ پروفیشنل ٹیکنیشن) کو انتظامیہ نے برطرف کر دیا تھا جیساکہ وہ اسکریپ کا ٹرک چوری کرنے کے الزام میں قصوروار ثابت ہوا تھا۔سی بی اے یونین نے حقائق جانے بغیر آپریشنز روک دئیے۔ پی پی ایل خط کا حوالہ دیتے ہوئے جو ڈی جی پی سی (ڈائریکٹریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشن) کو موصول ہوا تھا، عہدیدار نے کہا کہ یونین کی جانب سے مداخلت اور بدامنی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے صنعتوں، بجلی کی پیداوار اور گھرانوں میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ رابطہ کرنے پر پی پی ایل نے سائٹ پر یونین کی ہڑتال اور ڈی جی پی سی کو اپنا خط بھیجے جانے کی تصدیق کی لیکن کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم پیٹرولیم ڈویژن کے متعلقہ عہدیدار نے انکشاف کیا کہ پی پی ایل نے کمپنی کے ضابطہ اخلاق اور قابل اطلاق قانونی فریم ورک کی تعمیل میں مکمل شفاف عمل کے بعد ذیشان غنی کو چوری کے الزام میں برطرف کر دیا۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ برطرف ملازم کی بحالی کا یونین کا مطالبہ بے بنیاد اور غیر منصفانہ ہے کیونکہ اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے کمپنی کی پالیسیوں اور اس کے احتساب کے عمل کی سالمیت پر سمجھوتہ ہوگا۔ تاہم عہدیدار کے مطابق پی پی ایل انتظامیہ نے مزید خلل کو روکنے کے لیے معمول کی کارروائیاں بحال کر دی ہیں اور وہ یونین کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے۔