اسلام آباد(رپورٹ حنیف خالد)بنگلہ دیش نے 25ہزار ٹن اعلیٰ کوالٹی کی چینی خریدی ہے جو آئندہ ماہ کراچی پورٹ سے چٹاگانک پورٹ(بنگلہ دیش)پہنچ جائے گی۔ سفارتکاروں کے مطابق کئی عشروں کے بعد پاکستانی چینی کی صنعت اتنی بڑی مقدار میں اپنی پیداوار برادر ملک بنگلہ دیش بھجوا رہی ہے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں 2 دسمبر پیر کے روز کے چینی کی عالمی قیمت 530ڈالر ٹن تک چلی گئی ہے۔ بنگلہ دیش اس سے پہلے بھارت سے چینی درآمد کرتا رہا ہے۔پاکستان شوگر انڈسٹری نے اس سال وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے کم و بیش 6لاکھ ٹن چینی کے سودے کر لئے ہیں۔ اس میں سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ 70ہزار ٹن کے سودے کئے ہیں۔ تھائی لینڈ نے 50ہزار ٹن چینی شوگر انڈسٹری سے خریدی ہے۔ پاکستان شوگر ڈیلر کے ایک عہدیدار ماجد ملک کے مطابق پاکستان سے خلیجی ریاستوں عرب ممالک اور افریقی ممالک نے بھی پاکستان سے چینی کی خریداری کے معاہدے کر لئے ہیں۔ چینی کی برآمد سے پاکستان کو 40 سے 50کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ اس طرح پاکستان شوگر انڈسٹری ملک کیلئے بھاری زرمبادلہ فراہم کرنے والی صنعت بن گئی ہے کیونکہ پاکستان وزیراعظم شہبازشریف کی منظوری سے آئندہ سال نئے کرشنگ سیزن کی چینی وقت پر درآمد کرے گا۔ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کی مشترکہ کاوشوں سے شوگر انڈسٹری وہ چینی بھی کامیابی سے ایکسپورٹ کر رہی ہے جو اس سے پہلے افغانستان اور افغانستان کے راستے ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان،قازقستان، آذربائیجان میں سمگلر لے جا کر فروخت کیا کرتے تھے۔ پنجاب شوگر انڈسٹری کے سینئر ایگزیکٹو ممبر ماجد ملک نے جنگ کو بتایا کہ گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف آرمی چیف سید عاصم منیر کی موجودگی میں امن و امان کانفرنس میں کارروائی کرتے ہوئے ملک کی بڑی بڑی شوگر ملوں کی چینی کی پروڈکشن مانٹیرنگ کیلئے ایف آئی اے،فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیمیں رات اور دن ملوں میں موجود رہیں گی جبکہ انٹیلی جنس بیورو ان کی نگرانی کیا کرے گی۔ پاکستان میں 80سے زائدشوگر ملوں نے پیر دو دسمبر 2024تک چینی کی پیداوار شروع کر دی ہے۔ جس پر قومی خزانے کو اربوں روپے کا سیلز ٹیکس اور دوسرے واجبات اس نگرانی کی وجہ سے یقینی بنائے گئے ہیں۔