پاکستان کے بھارت نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا،ہربھجن سنگھ

03 دسمبر ، 2024

کراچی(عبدالماجد بھٹی) بھارت کے سابق ٹیسٹ اسپنر ہربھجن سنگھ نے کہا ہے کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے بھارت نہ آنے سے کوئی فرق پڑے گا، آپ بھارت مت آئیے کوئی بات نہیں،آپ بھارت نہ آئیں، آپ کے پاس انتخاب ہے، ہائبرڈ ماڈل میں ٹورنامنٹ کرائیں شائقین کو کرکٹ دیکھنے میں دلچسپی ہے۔ بھارت، پاکستان کے میچ ویسے ہی کم اور گنے چنے ہوتے ہیں ۔اگر آپ نے اس میں تنازع ڈالنا ہے تو بھی میچ کہاں ہوگا۔ یہ جو میچ ہو رہا ہے اسے ہونے دیں. چیمپیئنز ٹرافی ہونی چاہئے، اس انا میں نہیں آنا چاہیے کہ نہیں آؤ گے تو یہ نہیں ہو گا، ہائبرڈ ماڈل میں کھیلو، تاکہ شائقین کرکٹ دیکھ سکیں گے،اگر آپ ان میں بھی گڑبڑ کرنے کی کوشش کریں گے، تو یہ ٹورنامنٹ کیسے ہو گا۔بھارت کے سابق ٹیسٹ اسپنر ہربھجن سنگھ پاکستان مخالف بیانات کی وجہ سے کرکٹ حلقوں میں متنازع سمجھے جاتے ہیں۔آئی سی سی چیمپنز ٹرافی پر بھارت کے انکار کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے جو سخت گیر موقف اختیار کیا ہے اس پر ہربھجن سنگھ نے کہا کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے بھارت نہ آنے سے کوئی فرق پڑے گا۔سابق آف اسپنر کی پاکستانی کھلاڑیوں شاہد آفریدی ،شعیب اختر،ثقلین مشتاق اور محمد یوسف وغیرہ سے دوستیاں ہیں لیکن وہ اپنے ملک میں ہیرو بننے کے لئے پاکستان کے خلاف بیان بازی میں شہرت رکھتے ہیں انہوں نے ایک انٹر ویو میں کہا ہے کہ آپ بھارت مت آئیے کوئی بات نہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے نہ آنے سے بھارت میں جو ٹورنامنٹ ہو رہا ہے اس سے فرق پڑ رہا ہے تو آپ کی سوچ ہے۔ آپ بھارت نہ آئیں، آپ کے پاس انتخاب ہے لیکن وہ پسند بھارتی ٹیم کے پاس بھی موجودہےبھارتی کھلاڑی دبئی اور ابوظبی میں کھیلنے کو تیار ہیں۔پی سی بی چیئرمین محسن نقوی نے کہا کہ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ معاملات کو اس طریقے سے حل کیا جائے جس سے ہر کوئی اپنے فخر کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھ سکے۔ ہم وہ اقدامات کریں گے جو کرکٹ کے کھیل کے لیے بہترین ہوں گے۔ ہم جس بھی فارمولے پر فیصلہ کرتے ہیں - ہائبرڈ کا نہیں - یہ ہر اس میں شامل فریق کے لیے مساوی بنیاد کو یقینی بنائے گا۔ ہر بھجن سنگھ نے کہا کہ آپ کی موجودہ ٹیم کےکسی بھی کھلاڑی سے پوچھ کر دیکھ لیجیے وہ یہ کہیں گے۔ اگر پاکستان کے حالات اچھے ہوتے ہیں تو ٹھیک تھا۔ہر بھجن نے اپنی یادداشتیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ویسے میں دو بار پاکستان گیا ہوں پاکستانی بڑے زبردست میزبان ہیں پاکستانیوں کی میزبانی نہیں بھول سکتے۔ہم جب بھی بازار گئےتو ہم سے کھانے کے پیسے نہیں لئے جاتے تھے۔مجھے شال کا تحفہ بھی ملالیکن آج حالات ویسے نہیں ہیں۔ اگر حالات بہتر ہوجائیں تو ہر ٹیم جائے گی۔لیکن ہربھجن یہ بھول گئے کہ بھارت کے علاوہ دنیا کی ساری ٹیمیں پاکستان آکر کھیل رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حالات بہتر ہو جائیں گے تو ہر ٹیم جائے گی۔ بھارت نہ آنا کوئی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان کے یہاں نہ آنے سے بھارت میں ہونے والے ٹورنامنٹ پر اثر پڑے گا تو یہ آپ کی سوچ ہے۔ یہاں آئیں یا نہ آئیں، آپ کا انتخاب ہے لیکن بھارتی ٹیم کے پاس بھی یہی ہے۔ اگر آپ صورتحال کو دیکھتے ہیں تو کسی بھی موجودہ کھلاڑی سے پوچھیں اس کی رائے معلوم کریں۔یہاں آئیں یا نہ آئیں، آپ کا انتخاب ہے لیکن بھارتی ٹیم کے پاس بھی یہی ہے۔ انتخاب اگر آپ کسی بھی موجودہ کھلاڑی سے پوچھیں تو وہ بھی یہی کہے گا کہ اگر حالات بہتر ہوئے تو پاکستانی بہت شاندار میزبان ہوں گے، جب ہم بازار گئے تھے۔ لوگوں نے نہیں کہا کہ کھانے کے پیسے نہ دو، ان میں سے کچھ نے ہمیں شال بھی تحفے میں دی ہے لیکن اب حالات ٹھیک نہیں ہیں جب ٹھیک ہوں گےتو ہر ٹیم آنا چاہے گی۔ہر بھجن سنگھ نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی ہونی چاہیئے، اس انا میں نہیں رکنا چاہیےاگر آپ نہیں آئیں گےتو یہ نہیں ہوگا کہ وہ آئیں۔ہائبرڈ ماڈل میں ٹورنامنٹ کرائیں شائقین کو کرکٹ دیکھنے میں دلچسپی ہے۔ بھارت، پاکستان کے میچ ویسے ہی کم اور گنے چنے ہوتے ہیں ۔اگر آپ نے اس میں تنازع ڈالنا ہے تو بھی میچ کہاں ہوگا۔ یہ جو میچ ہو رہا ہے اسے ہونے دیں. چیمپیئنز ٹرافی ہونی چاہیے، اس انا میں نہیں آنا چاہیے کہ نہیں آؤ گے تو یہ نہیں ہو گا، ہائبرڈ ماڈل میں کھیلو، تاکہ شائقین کرکٹ دیکھ سکیں گے، یہ میچ بھارت اور پاکستان کے درمیان ویسے بھی کم کم میچ ہوتے ہیں۔ اگر آپ ان میں بھی گڑبڑ کرنے کی کوشش کریں گے، تو یہ ٹورنامنٹ کیسے ہو گا۔واضع رہے کہ2012-13سے، جب پاکستان نے محدود اوور کی سیریز کے لیے بھارت کا دورہ کیا، بھارت اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ کرکٹ تعلقات نہیں ہیں۔ بھارتی کرکٹ ٹیم 2008 کے بعد سے پاکستان نہیں آئی ہے، جب وہ آخری بار ایشیا کپ کھیلنے کراچی آئی تھی۔ پاکستان طویل عرصے سے آئی سی سی ایونٹس کے لیے بھارت جا رہا ہے۔ وہ 2011,2016اور 2023 کے ون ڈے اور ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کے لیے بھارت گیا تھا۔پاکستان نے بھارت کے انکار کے بعد اگلے تین سال بھارت جانے سے انکار کردیا ہے۔ اگر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل 2031 تک تمام آئی سی سی ٹورنامنٹس کے لیے یہی اصول اپناتی ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ اگلے سال چیمپئنز ٹرافی کے لیے ہائبرڈ فارمیٹ کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ چیمپنز ٹرافی شروع ہونے میں اب تین ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے، اگلے 50 اوور کے مقابلے کا شیڈول ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے تجویز دی ہے کہ اگر بھارت آئی سی سی کے مزید کسی ایونٹ کی میزبانی کرتا ہے تو پاکستان کے میچ بھارت کے بجائے غیر جانبدار مقامات پر کھیلے جائیں۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی تناؤ، جس نے ان کے دوطرفہ کرکٹ کے روابط کو متاثر کیا ہے اور اس کے نتیجے میں ماضی میں پہلے ٹورنامنٹس کے لیے اسی طرح کے انتظامات ہوئے ہیں، اس تصور کا ماخذ ہیں۔