روزویلٹ ہوٹل کولیزپر دیکرمزیدتباہی سے دوچارکردیاگیا

03 دسمبر ، 2024

نیویارک (تجزیہ /عظیم ایم میاں)نیویارک میں پی آئی اے انویسٹمنٹ کی ملکیت روزویلٹ ہوٹل کو لیزپر دیکر مزید تباہی سے دوچار کردیا گیا ‘ اپنوں کی بدانتظامی اورکرپشن کے ہاتھوں تباہ پاکستانی اثاثہ ماہرامریکی شکاریوں کی نظروں میں آگیا ؟نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ کے نامزد بھارتی نژاد مشیر راما سوامی نے پی آئی اے انوسٹمنٹ کی ملکیت ’’دی روز ویلٹ ہوٹل ‘‘نیویارک کو نیویارک سٹی کی انتظامیہ کو 3 سال کیلئے کرایہ پر دیئے جانے کے بارے میں جو بیان جاری کیا ہے وہ اُن کی تقرری کی منظوری اور عہدہ کا چارج لینےسے نہ صرف قبل ہے بلکہ ہوٹل کی لیز کے قانونی اور مالی تجزیہ اور دیگر حقائق کو نظر انداز کرکے صرف یہ عمومی تاثر لئے ہوئے ہے کہ نیو یارک سٹی کی حکومت 220ملین ڈالرز کرایہ ایک غیر ملکی حکومت (پاکستان ) کو اداکررہی ہے جو کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم سے ادا کیا رہا ہے جبکہ نیویارک سٹی گورنمنٹ نے یہ شرط بھی رکھی ہے کہ ہوٹل روز ویلٹ کے سابقہ ملازمین کی یونین کے مطالبات پر مبنی66 ملین ڈالرز کے واجبات بھی لیز کیلئے ادا کئےجانےوالے220 ملین ڈالرز میں سے منہا کرلئے جائیں گے۔ کرایہ کی لیز کا جائزہ لینے سے یہ بھی واضح ہوتا ہےکہ روز ویلٹ ہوٹل کے 1025 کمروں کی 3 سال کیلئے کرایہ لیز کواسکی مدّت مکمل ہونے سے قبل بھی بعض صورتوں میں نوٹس دیکر ختم کیا جاسکتا ہے لہٰذا راما سوامی کا بیان بنیادی حقائق سے مختلف غلط تاثر اور امتیازی سلوک پر مبنی ہے جو کہ مناسب نہیں بلکہ یہ بیان روز ویلٹ ہوٹل کے مستقبل میں پیش آنیوالی پیچیدگیاں اور مشکلات کی نشاندہی کرتا ہے۔ واضح رہے کہ روز ویلٹ ہوٹل کی نیویارک سٹی کے ساتھ کرایہ لیز پر دستخط ہونے کا اعلان اُس وقت کے وزیر ریلوے سعد رفیق نے ایک پریس کانفرنس میں کیاتھاجبکہ ہوٹل روز ویلٹ نیویارک کا محکمہ ریلوے سے کوئی تعلق نہیںتھا۔ خواجہ سعد رفیق نے پریشانی کے عالم میں نیویارک میں بعض پاکستانیوں کو فون کرکے جس طرح نیویارک سٹی کے میئرایرک ایڈمز کے قریبی ایک پاکستانی امریکن نوجوان کو بطور سیڑھی استعمال کیا تھا۔ اب وہ پاکستانی۔ امریکن نہ صرف اپنی سیاسی تقرّری اور ملازمت سے بھی سبکدوش کردیاگیا ہے بلکہ میئر ایرک ایڈمز بھی متعدد الزامات اور وجوہات کے باعث زیرِ تحقیقات بھی ہیں۔میئر ایرک ایڈمز کو غیر قانونی امیگرنٹس کو ہوٹلوں میں رہائش دینے اور مراعات دینے کے حوالے سے بھی مزید تحقیقات کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ ایرمارشل (ر) نور خان کی پی آئی اے کی سربراہی کے دور میں نیویارک کے روز ویلٹ ہوٹل کو مشروط لیز پر حاصل کرکے اسے بہترین انداز میں چلانے کے بعد پی آئی اے انوسٹمنٹ نے سعودی شراکت دار کو بھی رخصت کرنے اور بعد ازاں ہوٹل کو اسکی مالیت سے کہیں کم قیمت پر خرید کراس ہوٹل روز ویلٹ کو اقرباپروری، کرپشن اوربد انتظامی کا شاہکار بنانے والے پاکستان منتظمین اور بعض حریص حکمرانوں نے امریکا میں پاکستان کی شناخت ہوٹل روز ویلٹ نیویارک کو جس بے رحمی کے ساتھ تباہی کے کنارے پر پہنچایا ہے اسکی تفصیلات ’’جنگ‘‘گروپ کے اخبارات کے ریکارڈ میںمحفوظ ہیں کووِڈ (Covid) کےپھیلاؤ کے جواز پر بند کئے جانےوالے ہوٹل روز ویلٹ نیویارک کو بالا خر کوششیں کرکے نیویارک سٹی کو 3 سالہ کرایہ کی لیز پر دینے میں کامیابی حاصل کرکےنہ صرف بد انتظامی کے ذمہ دار کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے فارغ ہوگئے بلکہ ہوٹل کو مزید تنزلی اور تباہی میںدھکیل دیا۔ غیر قانونی امیگرنٹس کی رہائش گاہ بننے کے بعد یہ ہوٹل روز ویلٹ گندگی، تباہی اور تنزّلی کا ایسا شکار ہوا ہے کہ اب اس کو ایک اوسط درجے کا ہوٹل بنانے کےلئے لاکھوں ڈالرز کے اخراجات کی ضرورت ہوگی۔ نیویارک سٹی کے ساتھ لیز کرنے سے پی آئی اے نویسمنٹ کو صرف یہ ملا کہ 3 سالہ لیز مکمّل ہونےکی صورت میں پہلے سال 7.4 ملین ڈالرز دوسرے سال 5.3 ملین اور تیسرے سال 6.1 ملین یعنی صرف 18 ملین ڈالرز سے کچھ زائد کیش حاصل ہوگا۔ اوران تین سالوں میں اس ہوٹل کی دیکھ بھال پر ہونےوالے اخراجات (تخمینہ 150 ملین ) سے پی آئی اے انوسٹمنٹ بچ گئی ہے لیکن اسی عرصہ میں ہوٹل کی عمارت، شہرت اور معیار کو جو شدید نقصان پہونچا ہے۔ اس خسارے کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ اور ابھی 36 ماہ کی لیز میں سے صرف 20 ماہ مکمل ہوئے ہیں۔ مزید برآں اس ہوٹل کا آئی ایم ایف سے پاکستان کیلئے۔ 101 ارب ڈالرز کے قرضے کی رقم سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اس پر اضافی صورتحال یہ ہے کہ نیویارک سٹی کونسل کے رکن کیتھ پاورز، مین ہٹن بارو کے پریذیڈنٹ مارک لیوین اوربعض دیگر متحرک شخصیات اب ہوٹل روز ویلٹ کیلئے قانون سازی کرکے اسے لینڈ مارک (LANDMARK) یعنی قومی اثاثہ قرار دیکر اس عمارت کی ظاہری شکل و شباہت کو تبدیل کرنے کی ممانعت کیلئے آوازبھی اٹھارہے ہیں۔تاریخی اور بیش قیمت دی روز ویلٹ ہوٹل نیویارک پاکستانی حکمرانوں کے ہاتھوں بدانتظامی اور مالی بدعنوانیوں کا شکار رہنے کے بعد اب امریکی قوانین اور ماہر امریکی کاروباری نظروں کی توجہ کا شکار ہے۔