حکومت کا اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس آئندہ ہفتے طلب کرنے کا فیصلہ

03 دسمبر ، 2024

اسلام آباد (محمد صالح ظافر ،خصوصی تجزیہ نگار)حکومت کا قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس آئندہ ہفتے طلب کرنے کا فیصلہ، تحریک انصاف کی اجلاس کے لئےتحریک ابھی موصول نہیں ہوئی،وفاقی دارالحکومت پر یلغار کے حوالے سے بحث ہوگی قرار داد مذمت پیش ہوگی،سخت قانون سازی کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کو آئندہ چڑھا ئی سےمحفوظ بنایا جائے گا،ملک کی آن کی خاطر اور دہشت گردوں سے لڑ کر جان نثار کرنے والوں کو خراج پیش کیا جائے گا،اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ میں توسیع اور بعض قلمدان تبدیل ہونے کا امکان ہے، قومی اسمبلی کا اجلاس آئندہ ہفتے طلب کرنے کافیصلہ کرلیا گیا ہے توقع ہے کہ اجلاس گیارہ دسمبر (بدھ) کو ہوگا اسی روز پارلیمانی ایوان بالا سینیٹ کا اجلاس بھی بلایا جائےگا۔ حد درجہ قابل اعتماد پارلیمانی ذرائع نے جنگ /دی نیوز کو پیر کی شام بتایا ہےکہ حکومت نے دونوں ایوانوں کے الگ الگ اجلاس گزشتہ ماہ اسی تاریخ کو منعقد کرنے کا اردہ کرلیا تھا یہ اجلاس دو ہفتے جاری رہیں گے۔ حکومتی ذرائع نے بتایا ہےکہ تحریک انصاف نے 24 نومبر کو وفاقی دارالحکومت پر یلغار کرکے تباہ کن صورتحال پیدا کرنے کی کوشش میں ملک کا معاشی طور پر شدید نقصان کیا ہےا ور اہم غیر ملکی سربراہ مملکت و حکومت اور ان کے اعلیٰ سطح کے وفد کی موجودگی میں دارالحکومت کے حساس علاقے کے لئے خطرات پیدا کرکے عالمی رائے عامہ کے سامنے ملکی وقار کو گزند پہنچانے کا قدم اٹھایا ہے اس پر ان ایوانوں میں تفصیلی بحث ہوگی اور حکومت اس کی مذمت کے لئے قراردادیں بھی لائے گی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورتحال کو بھی ایوان میں زیر بحث لائے گی ۔ قومی اسمبلی میں صدر آصف علی زرداری کے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پر قرارداد تشکر پر بحث بھی ہوگی اس دوران قومی اور سینیٹ سیکریٹریٹ نے سنی اتحاد کونسل اور تحریک انصاف کی طرف سے دونوں ایوانوں کے اجلاس طلب کرنے کے لئے درخواست پیش کئے جانے سے لاعلمی کاا ظہار کیا ہے تحریک انصاف نے یہ اجلاس ریکوزیشن کے ذریعے بلانے کا اعلان کررکھا ہے۔ ازروئے قواعد اجلاس طلب کرنے کی درخواست دائر ہونے کے بعد چودہ روز کے اندر اندر اجلاس کا طلب کیا جانا آئینی تقاضا ہے اگر حکومت کا طلب کردہ اجلاس جاری ہو تو بھی ریکوزیشن سے بلایا گیا اجلاس الگ سے بلایا جانا لازم ہے تاوقتیکہ اس کے لئے قرارداد سے محرکین دستبردار نہ ہوجائیں۔ اجلاس طلب ہونے کی صورت میں اس کے لئے محرکین کی طرف سے دیئے گئے ایجنڈے کے نمٹائے جانے پر اسے غیر معین عرصے کے لئے ملتوی کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وفاقی دارالحکومت کو آئندہ جتھوں کی یلغار سے محفوظ رکھنے کے لئے سخت قانون سازی کے ضمن میں مسودات کا جائزہ لیا جائے گا۔ مجوزہ اجلاس اس لحاظ سے بھی نمایاں اہمیت کے حامل ہونگے کہ ان میں ڈیجیٹل دہشت گردی کے قلع قمع ، فیک نیوز اور ملک کے خلاف ہر قسم کے پروپیگنڈے کے تدارک کی خاطر قانون سازی کی جائے گی۔ دہشت گردی کے خلاف سینہ سپر مسلح افواج کو خراج تحسین اور ملک کی آن کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ان ایوانوں کی کارروائی کا حصہ ہوگا۔ اس اثناء میں سرکاری ذرائع نے اشارہ دیا ہےکہ وفاقی کابینہ میں توسیع کا عمل انجام دیا جائے گا بعض وفاقی وزراء کے قلمدانوں میں ردوبدل کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ ذرائع نے اشارہ دیا ہےکہ پارلیمانی ایوانوں کے لئے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے تصفیہ طلب معاملے پر ملک کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت سے نظرثانی کی اپیل کا فیصلہ بھی ماہ رواں کے انہی ایام میں آنے کی توقع ہے جب دونوں ایوانوں کے اجلاس منعقد ہورہے ہونگے اس طرح ان ایوانوں کی عددی ھیئت میں تبدیلی اجلاس کے اختتام تک ہوسکتی ہے۔ مبصرین کا خیال ہےکہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پیش آمدہ اجلاس ہنگامہ خیز اور سابق روایتی اجلاسوں سے کہیں مختلف ہونگے۔