اسلام آباد (محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید تحریک انصاف کے ڈپٹی چیئرمین سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، پنجاب تحریک انصاف کے صدر ڈاکٹر یاسمین راشد، سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ، سینیٹ کے رکن اعجازچوہدری اور سابق صوبائی وزیر محمودالرشید نے اپنے ہاتھ سے تحریر کردہ کھلے خط کے ذریعے تحریک انصاف کی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ احتجاجی تحریک کو فوری طور پر معطل کردےیہ خط گزشتہ بدھ کو وفاقی دارالحکومت پر یلغار سے پسپائی کے تناظر میں ہوئے واقعات کے بعد جاری کیا گیا تھا جسے نظرانداز کردیاگیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور جو گزشتہ نو ماہ سے یکے بعد دیگرے اسلام آباد پر دھاوے کے ذریعے احتجاجی تحریک بڑھارہے ہیں صوبائی اسمبلی میں اپنی دیرزوہ تقریر کے ذریعے انہوں نے لاہور میں زیر حراست اپنے رہنمائوں کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ اسلام آباد کا رخ کرنے کا عندیہ دیا ہے اور اتوار کو اعلان کیا ہے کہ پارٹی کے اڈیالہ جیل میں محبوس بانی جب بھی احتجاج کے لئے اعلان کرینگے تو وہ اس کے لئے تیار ہونگے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے اس کھلے خط کے بارے میں پانچ روز گزرجانے کے باوجود خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ خط تحریر کرنے والے تمام رہنما نو مئی کے فوجی تنصیبات حملوں کے مقدمات میں ماخوذ ہیں اور ان کی ضمانت کے لئے درخواستیں بھی مسترد ہوچکی ہیں۔ اس دوران وفاقی حکومت کے اعلیٰ ذرائع نے ’’جنگ‘‘ کے خصوصی رپورٹنگ سیل کو بتایاہے کہ تحریک انصاف کا وہ نیٹ ورک ٹوٹ گیا ہے جواسے احتجاج کے نام پر وفاقی دارالحکومت پر یلغار کے لئے سلامتی اور رہنمائی فراہم کرتا تھا۔ گزشتہ بدھ کو اسے جب ہزیمت کا سامنا ہوا اور جس میں خیبرپختونخوا کے وزیرا علیٰ اور بشریٰ بی بی نے جوابی حکومتی کارروائی کے دوران اپنے کارکنوں اور ساتھیوں کو چھوڑا اور فرار کی راہ اختیار کی ہے اس کے بعد آئندہ طویل عرصے کے لئے اسے کسی چڑھائی کی ہمت نہیں ہوگی۔ کوٹ لکھپت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وہاں صدمے کی کیفیت ہے اور ہفتہ رواں میں وہاں سے آنے والے ردعمل سے سراغ مل جائے گا کہ اب احتجاج کی بجائے مذمت کی راہ اختیار کی جائے گی۔ حکومتی اکابرین کا خیال ہے کہ 26 اور 27نومبر کی درمیانی شب نے تحریک انصاف کے احتجاج کی کمر توڑ دی ہے وہ کم از کم ایک سال تک سڑکوں کا رخ نہیں کرے گی۔ اتوار کو وفاقی وزیر طلاعات و نشریات چوہدری عطاءاللہ تارڑ نے واضح کردیا ہے کہ اگر خیبرپختونخوا کے وزیرا علیٰ نے دوبارہ اسلام آباد پر حملے کا اعلان کیا توا سے نئی تادیبی اور انسداد حکمت عملی کے ذریعے اسلام آباد کی حدود کو چھونے بھی نہیں دیا جائے گا ایک استفسار کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت ایسا کوئی اعلان ہونے کی صورت میں آئین کے تحت حاصل شدہ اختیار کے باوجود صوبائی حکومت کو معطل نہیں کرے گی۔ وہ مینڈیٹ کا احترم اور یقین رکھتی ہے۔ وفاقی سیکریٹری داخلہ آغا خرم نے واضح کیاہے کہ فوج کو آئین کے تحت سول انتظامیہ کی اعانت کے لئے بلایا گیاتھا جس کی کسی احتجاج کرنے والے شخص سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی اور نہ ہی مظاہرین سے نمٹنے والے قانون نافذ کرنے کے اہلکاروں نے کوئی آتشیں اسلحہ استعمال کیا ہے۔ اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس علی ناصر رضوی نے یقین دلایا کہ پولیس کسی بے گناہ شخص کو ہراساں نہیں کرے گی اور نہ ہی گرفتار کرے گی تاہم جن افراد نے قانون کواپنے ہاتھ میں لیا ہے ان کے لئے معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پولیس اپنی کارروائیوں کے لئے قانون وآئین کے سامنے جوابدہ ہے۔
راولپنڈی پنجاب بھر میں ٹریفک وارڈنزکوناکے لگاکر چالان کرنے سے روک دیا گیا،آئی جی پولیس پنجاب نے صوبے کے...
اسلام آباد دل کے پیچیدہ مرض میں مبتلا ایک انتہائی غریب، مستحق اور سفید پوش شخص نے مخیر حضرات سے علاج کے لئے...
رالپنڈی راولپنڈی پولیس نے 6ملزموں کو گرفتار کرکے اسلحہ معہ ایمونیشن برآمد کرلیا، ملزموں کے خلاف کارروائیاں...
راولپنڈی شادی شدہ خاتون سے زیادتی کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیاگیا، تھانہ چکری پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے...
بیجنگ چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا ہے کہ چین اور پاکستان نے سی پیک 2.0کی ترقی کو تیز کرنے،...
اسلام آباد عالمی یومِ انسدادِ تمباکو نوشی پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے پیغام میں کہاکہ ہر سال تمبا کو...
اسلام آباد آئندہ مالی سال کے بجٹ کی پارلیمنٹ سےمنظوری کا معاملہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے...
اسلام آباد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ،...