کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“ میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے سوال پی ٹی آئی رہنماؤں کا مرکزی قیادت کے خلاف وائٹ پیپر تیارکرکے بانی کو بھیجنے کا فیصلہ،تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات، کیا چیئرمین پی ٹی آئی پارٹی کو متحد کر پائیں گے؟ کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کارمحمل سرفرازنےکہا کہ فائنل کال یا سڑکوں کی سیاست کے نتائج صحیح نہیں آتے، تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ جھوٹی کہانیوں سے اصلی ہلاکتیں بھی چھپ جائیں گی۔جھوٹ کی عمر لمبی نہیں ہوتی اس کی قلعی کھل کر رہتی ہے، تجزیہ کارسلیم صافی نےکہا کہ پارٹی میں تین چار گروپس ہیں۔ پارٹی میں تقسیم ہے کچھ لوگ انتہا پسندانہ رجحانات رکھتے ہیں۔کچھ لوگ قانون و آئین کے دائرے میں رہ کرآگے بڑھنا چاہتے ہیں،تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ کچھ باتیں سامنے آگئیں کچھ سامنے نہیں آئیں۔بانی پی ٹی آئی نے احتجاج اور مارچ کی پارٹی کی حکمت عملی پر اظہا رناراضگی کیا ہے۔پارٹی کے ان تمام سیاستدانوں کی فہرست بنانے کا کہا ہے جن کی ضمانتیں تھیں اور احتجاج میں شرکت نہیں کی۔علی امین اور بشریٰ بی بی کے طرز عمل پر حیرت کا اظہار کیا۔پارٹی کے اندر جو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں اسے روک دیں۔پارٹی کے جو عہدیدار شہادتیں سیکڑوں میں بتا رہے ہیں ان سے ثبوت مانگیں۔بانی پی ٹی آئی نے بشریٰ بی بی کے مارچ میں شرکت پر حیرت کا اظہا رکیا۔بانی پی ٹی آئی نے آج بھی کہا کہ ڈی چوک پر جانے کا کس نے کہا تھا۔اسلام آباد کی طرف مارچ کا تو کہا تھا ۔تجزیہ کارسہیل وڑائچ نےکہا کہ بیرسٹر گوہر بڑی مدلل، شائشہ اور سلجھی ہوئی گفتگو کرتے ہیں۔ہمیشہ اعتدال کی بات کرتے ہیں۔پارٹی میں معتدل لوگ موجود ہیں۔مگر جذباتیت اور بے عقلی کی حکمرانی ہے۔جو بھی کوئی عقل کی بات کرے اس کو جرنیلوں کی وردی پہنا کرفیس بک پر ٹانگ دیتے ہیں۔جھوٹی کہانیوں سے اصلی ہلاکتیں بھی چھپ جائیں گی۔جھوٹ کی عمر لمبی نہیں ہوتی اس کی قلعی کھل کر رہتی ہے۔یو ٹیوبرز،سوشل میڈیا کا اتنا دباؤ ہے کہ وہ پارٹی کو بلیک میل کررہے ہیں۔ تجزیہ کارمحمل سرفرازنےکہا کہ بیرسٹر گوہر اورکارکنوں میں بڑی دوریاں ہیں۔کارکنان صرف عمران خان کو مانتے ہیں اور کسی کو نہیں مانتے۔کارکنان قیادت پر اعتماد نہیں کرتے اعتماد کا فقدان ہمیں نظر آتا ہے۔بیرسٹر گوہر جتنی بھی کوشش کرلیں وہ کارکنان کو مطمئن نہیں کرسکیں گے۔پارلیمنٹ ہی صحیح فورم ہے جس پر آپ یہ بات کرسکتے ہیں۔سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے یہ باتیں حل ہونے چاہئیں۔فائنل کال یا سڑکوں کی سیاست کے نتائج صحیح نہیں آتے۔ تجزیہ کارسلیم صافی نےکہا کہ پارٹی میں تین چار گروپس ہیں۔ پارٹی میں تقسیم ہے کچھ لوگ انتہا پسندانہ رجحانات رکھتے ہیں۔کچھ لوگ قانون و آئین کے دائرے میں رہ کرآگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ان سب کا ایک دوسرے کے بارے میں اختلاف ہے۔ عمران خان کی قیادت پر ان کا اتفاق ہے۔جو کچھ بھی ہے اس کی ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوتی ہے۔مارچ کے ڈی چوک جانے پر کوئی ایسا نہیں ہے جو اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے سکے۔بیرسٹر گوہر بھی اس وقت روک سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
راولپنڈی دو ہفتہ پر مشتمل پاکستان-مصر مشترکہ مشق تھنڈر-II اختتام پذیر ہوگئی جس میں انسداد دہشت گردی کی...
اسلام آباد ماہرین ماحولیات، پالیسی سازوں اور موسمیاتی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہپاکستان میں شدید گرمی...
کراچیجیو کے ڈرامے ہمراہی کی مقبولیت کے آسمان پر اونچی اڑان،دانش تیمور، حبا بخاری، شہزاد نواز اور ایوب کھوسہ...
اسلام آبادپاکستان اور اتھوپیا کے مابین زراعت، انجینئرنگ اور ٹریکٹر مینوفیکچرنگ، سیاحت کو فروغ دینے...
لاہور پاکستان اور سعودی عرب کے پہلے سے مضبوط تعلقات میں مزید اضافہ بھارتی حکومت سے برداشت نہیں ہو رہا۔ معروف...
اسلام آ باد وفاقی ملازمین کیلئے اہم خبر ہے کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہا ئوسنگ اتھارٹی نے دو نئے سیکٹرز ایف...
کراچی ایلون مسک نے پیرس کی رضاکارانہ قانونی طلبی نظر انداز کردی۔ ایکس کیخلاف بچوں کی نازیبا تصاویر کے الزام...
کراچی چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ صوبائی ایچ ای سیز اور وفاقی ایچ ای سی ملک...