بانی پی ٹی آئی کی سوچ اور تبدیلی سے ڈرتے ہیں،زندگی کو خطرہ ،عمرایوب

03 دسمبر ، 2024

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی، عمر ایوب نےکہا ہےکہ بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو ہر وقت خطرہ ہے، بانی پی ٹی آئی ایک سوچ اور تبدیلی کا نام ہیں ، لوگ سوچ اور تبدیلی سے ڈرتے ہیں،جمہوریت نہیں چاہتے تو ختم کردیں، ون مین رول کردیں جو لوگ پس پردہ ہیں وہ بھی سامنے آجائیں،دوبارہ آنے کی کال بانی پی ٹی آئی دے سکتے ہیں ، فی الحال کوئی کال نہیں دی گئی، گرفتاری ہمارے لئے نئی چیز نہیں ہے،اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی، عمر ایوب نےکہا کہ بات چیت تب ہوتی ہے جب حکومت کے لوگ سنجیدہ ہوں۔جس وقت مثبت ہدف کی طرف وہ خود جانا چاہیں۔اس وقت حکومت غیر سنجیدہ ہے۔جس وقت وہ آرڈر کرتی ہے کہ نہتے شہریوں پر فائرنگ کی جائے۔ M60 مشین گن استعمال کی گئی۔ remington700 gunاستعمال کی گئیں۔میں علی امین کے ساتھ مسلسل موجود تھا۔ہم بلٹ پروف گاڑی میں تھے۔ بشریٰ بی بی لینڈ کروزر بلٹ پروف میں موجود تھیں۔جس وقت ہم مڑے ایک دوسری بلیک بلٹ پروف کہیں سے آرہی تھی۔ اسنائپرز کو دھوکہ ہوا کہ یہ علی امین گنڈا پور کی ہے اس کی پچھلی ونڈو سے گولی نکل گئی۔اس میں سے صرف armour piercing گولی نکلتی ہے۔ وہ بلٹ پروف گاڑی سیکورٹی فورس یا انٹیلی جنس کی تھی۔بہت آنسو گیس شیلنگ اور فائرنگ ہوئی جس کے بعد ہمارے لوگ نکل گئے۔آفیشل دھرنا ختم ہونے کی ابھی تک کوئی کال نہیں آئی وہ صرف بانی پی ٹی آئی کرسکتے ہیں۔ساڑھے آٹھ بجے ہم ڈی چوک پر موجود تھے،فائرنگ کا آغاز ہوا۔وزیراعلیٰ کے پی کی گاڑی کی ونڈ اسکرین پر کسی نے اسپرے کیا تھا صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔یہاں سے ہم سینٹورس گئے وہاں سے یو ٹرن لے کر ہم فضل حق روڈ آئے۔لوگوں نے راستہ روکا ہوا تھا۔بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور کو تقریباًتین گھنٹے روکے رکھا۔کشمیر ہائی وے پر علی امین کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی۔ان کی سیکورٹی کی گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا۔ بشریٰ بی بی نے گاڑی تبدیل کی، میں نے نہیں کی۔ ہماری فائنل کال بالکل رانگ کال ثابت نہیں ہوئی، ہم پر امن تھے۔ہماری فائنل کال کامیاب تھی۔رینجرز کے جوان کا کورٹ مارشل ہونا چاہئے جس نے ایک نمازی کو دھکیل کر اوپر سے نیچے پھینکا۔ مقبوضہ کشمیر یا اسرائیل میں بھی میری نظر سے ایسا نہیں گزرا۔کیا یہ آپ کی ٹریننگ ہے کہ مسلمانوں کو آپ نماز پڑھتے ہوئے دھکیلتے ہیں۔ہائی کورٹ نے ناقص قانون کے تحت روکا۔پارٹی کے12 افراد شہید ہوئے، ان کی ایف آئی آرز ہوں گی۔میرے سامنے ایسا کوئی میسج نہیں آیا کہ سنگجانی میں دھرنا دیں۔ہم بانی پی ٹی آئی کے ویڈیو میسج پر اصرار کررہے تھے۔ 26 نومبر کو کیا مراد سعید احتجاج میں شامل تھے ؟ کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عطا تارڑ کے بیان پر ہنس ہی سکتا ہوں، غلط بیانی نہیں کرنی چاہئے۔پچھلی بار مجھ پر 100 سے زائد مقدمات درج ہوئے تھے۔ جمہوریت نہیں چاہتے تو ختم کردیں۔ ون مین رول کردیں جو لوگ پس پردہ ہیں وہ بھی سامنے آجائیں۔دوبارہ آنے کی کال بانی پی ٹی آئی دے سکتے ہیں ، فی الحال کوئی کال نہیں دی گئی۔ گرفتاری ہمارے لئے نئی چیز نہیں ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے پارٹی کے عہدے سے استعفیٰ واپس لے لیا ہے۔بشریٰ بی بی نے صرف پیغام دینے کے لئے پارٹی میٹنگ میں شرکت کی۔بشریٰ بی بی پارٹی کی کسی میٹنگ میں شریک نہیں ہوتیں۔علی امین گنڈا پور اور بشریٰ بی بی میں اختلافات نہیں ہیں، کوئی ایسی بات نہیں ہے۔کنٹینر پر ہمارا کنٹرول ختم ہوگیا تھا۔ کیسے ہوسکتا ہے کہ پارٹی کے لوگ کنٹینر کو آگ لگا دیں۔بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو ہر وقت خطرہ ہے۔ بانی پی ٹی آئی ایک سوچ اور تبدیلی کا نام ہیں ، لوگ سوچ اور تبدیلی سے ڈرتے ہیں۔خیبر پختونخوا میں بھی رینجرز آگئی تھی ہم نے ٹریک تبدیل کرلیا،وہ ہمیں assassinate یاگرفتار کرنا چاہ رہے تھے۔ان کو ہدایات دی گئیں کہ خیبرپختونخوا کی سرزمین سے نکل جائیں، آپ کوکسی نے بلایا نہیں ورنہ آپ کے خلاف ایف آئی آر ہوگی ،پھر وہ ٹرکوں میں بیٹھ کر ادھر سے نکلے۔سختی یا تشدد کا پیمانہ بڑھنے کانقصان حکومت کو زیادہ ہوگا ۔بانی نے جوڈیشل کمیشن سے ہٹاکر ٹھیک کیا۔میزبان حامد میرنے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے خلاف سختی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ آج انہیں مزید7 مقدمات میں نامزد کردیا گیا۔26 نومبر کو اسلام آباد ڈی چوک میں جو کچھ بھی ہواان واقعات کی ذمہ داری عمران خان پر ڈالی گئی ہے۔کیا اس وقت حکومت اور تحریک انصاف میں بات چیت یا مذاکرات کی کوئی گنجائش موجو دہے۔ حامد میرنے مزیدکہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ اپوزیشن پاکستان کو نقصان پہنچا رہی ہے۔اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ حکومت نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس وقت جو حالات ہیں اس کا سب سے زیادہ نقصان ریاست کو ہورہا ہے۔سب سے زیادہ خوش پاکستان کے دشمن ہورہے ہیں۔ جس نے جو بھی کردار ادا کیا وہ سوچے کہ آپ نے جو بھی کیا اس سے پاکستان کے دشمن خوش ہورہے ہیں۔