رہنمائوں کا بانی PTI کو مرکزی قیادت کیخلاف وائٹ پیپر بھیجنے کا فیصلہ

03 دسمبر ، 2024

اسلام آباد (رپورٹ : عاصم جاوید) پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں نے بانی پی ٹی آئی کو پارٹی کی مرکزی قیادت کیخلاف وائٹ پیپر بھیجنے کا فیصلہ کر لیاہے ذرائع کے مطابق کور کمیٹی اراکین نے پارٹی کے مرکزی قائدین کو کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیا ہے اوران کیخلاف وائٹ پیپر تیار کر کے بانی پی ٹی آئی کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے،رہنمائوں نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان ، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ سمیت مرکزی قیادت پر الزامات عائد کئے ہیں انکا کہنا ہے ہمارے نام ایف آئی آر میں ہیں لیکن بیرسٹر گوہر علی خان ہر بار بچ نکلتے ہیں، حلیم عادل شیخ کا موقف ہے کہ بتایا جائے انکے پیر کون ہیں یا انہیں تعویذ کون دیتا ہے ہم پر ایف آئی آرز ہو رہی ہیں لیکن مرکزی قیادت اس سے آزاد ہے اور کارکن ہی پھنستے ہیں، شعیب شاہین نے جواب دیا ہمیں بھی بتائیں ہم بھی وہاں سے تعویذ لے لیتے ہیں، پارٹی رہنمائوں کی رائے تھی کہ بیرسٹر گوہر گراونڈ پر تھے نہ ہی انہوں نے قائدانہ کردار ادا کیا جبکہ علی محمد خان کا آڈیو بیان میں موقف تھا کہ پارٹی کی مرکزی قیادت مذاکرات میں مصروف تھی ادھر تحریک انصاف کی سیاسی اور کور کمیٹی فیک نیوز کا شکار ہو گئی،ذرائع کے مطابق اتوار کو کور کمیٹی گروپ میں فیک نیوز شئیر کی گئیں ، کور کمیٹی گروپ میں حلیم عادل شیخ نے اسد قیصر، محمود خان اچکزئی پر حملے کی فیک خبر شیئر کی، حلیم عادل نے خبر پر پارٹی سے رائے طلب کی اور تشویش کا اظہار کیا، دوسری جانب سیمابیہ طاہر نے بین الاقوامی میڈیا کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت کی خبر شیئر کی کرتے ہوئے اسے کامیابی قرار دیا پارٹی گروپ میں قاسم سوری کا بانی پی ٹی آئی کی جیل سے منتقلی کا مبینہ ٹویٹ بھی شیئر کیا گیا جبکہ علی محمد خان نے اسے فیک قرار دیتے ہوئے سیاسی کمیٹی و قائدین سے مشاورت کا کہا،قائدین کا کہنا تھا کہ فیک نیوز پر مبنی بیانات سے پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے اسد قیصر سے متعلق ایک ہفتے میں چھ فیک نیوز شیئر کی گئیں اس حوالے سے اسد قیصر کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی یہ فیک نیوز کہاں سے اور کیوں جاری ہو رہی ہیں۔