خیبر پختونخوا میں قیام امن گورنر نے آج اے پی سی طلب کرلی PTIکا شرکت نہ کرنے کا اعلان

05 دسمبر ، 2024

پشاور(سٹاف رپورٹر) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبہ میں قیام امن اور استحکام کیلئے کل جماعتی کانفرنس آج پشاور میں طلب کی ہے جس میں صوبہ کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف ،عوامی نیشنل پارٹی ، جمیعت علمائے اسلام ، جماعت اسلامی ، مسلم لیگ ن ، قومی وطن پارٹی اور جے یو آئی (س) سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاہم تحریک انصاف نے گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے طلب کردہ کل جماعتی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے اور موقف اپنایا ہے کہ فیصلہ مظلوم، نہتے اور پرامن شہریوں کے قتلِ عام میں خاموش سہولت کاری کرنے اور سیاسی اجرت کے عوض قاتلوں کی ہمنوائی کے پیشِ نظر کیا گیا۔ آل پارٹیز کانفرنس گورنر ہاؤس میں ہوگی ، صوبہ کی حکمران جماعت سمیت اے این پی، لیگ ن، جے یو آئی سمیت تمام جماعتوں کو شرکت کی دعوت ے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبہ میں دہشت گردی و بدامنی کے واقعات اور قبائلی ضلع کرم کے تناظر میں صوبہ میں قیام امن کیلئے آج بروز جمعرات صبح دس بجے گورنر ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس طلب کی ہے جس کیلئے گورنر نے تمام سیاسی جماعتوں کے پاس جاکر انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے، کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائیگا اس سلسلے میں گورنر خیبرپختونخوا نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی شرکت کی پیشکش کی ہے تاہم وزیر اعلیٰ نے گورنر کے اقدام کو تجاوز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس ہم بلائیں گےیہ گورنر کا دائرہ اختیار نہیں ،دوسری جانب تحریک انصاف نے کانفرنس میں شرکت نہ کرنیکا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی تحریک انصاف پر پابندی کے مذموم حکومتی ایجنڈے کی سرگرم پشت پناہ ہے جس نے بلوچستان اسمبلی سے پابندی کی قرارداد کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا، ایک طرف پیپلز پارٹی خصوصاً سندھ میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی غیرقانونی پکڑ دھکڑ اور ان کی بدترین ہراسگی میں بڑھ چڑھ کر مصروف ہے اور دوسری جانب بےجان نمائشی مجالس منعقد کرکے اپنی جمہوریت نوازی کا تاثر دینا چاہتی ہے، ترجمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا خیبرپختونخوا میں کوئی مینڈیٹ نہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام کی نمائندگی پاکستان تحریک انصاف کے پاس ہے اور تحریک انصاف اس ذمہ داری کو بخوبی سرانجام دے رہی ہے،صوبے کے عوام کے ایشوز کے حل پر پختونخوا حکومت کلیتاً سنجیدہ ہے بلکہ وفاق کی معاونت کے بغیر بھی پیچیدہ ترین معاملات کو سیاسی بالغ نظری اور مؤثر انتظامی اقدامات سے حل کرنے میں مصروف ہے۔ صوبے میں منعقد کردہ پختون اور کرم جرگے اس کی کلیدی مثالیں ہیں، گورنر کسی معاملے پر سنجیدہ تجاویز صوبائی حکومت کو بھجوائیں گے تو صوبائی حکومت ضرور اسے زیرِ غور لائے گی۔