جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران سمیت 100 ملزمان پر فرد جرم عائد، بشریٰ کے وارنٹ گرفتاری جاری، قائد حزب اختلاف عمر ایوب گرفتار

06 دسمبر ، 2024

راولپنڈی (خبر نگار،سٹاف رپورٹر،نمائندہ جنگ ) انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 100 ملزمان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے مزید سماعت دس دسمبر تک ملتوی کر دی، عدالتی کارروائی کے بعد پولیس نےسینٹرل جیل راولپنڈی کے باہر سے جمعرات کی شام پی ٹی آئی کے3 رہنماؤں اور 2کارکنوں کو حراست میں لے کر اڈیالہ پولیس چوکی منتقل کیا جن میں سے قائدحزب اختلاف عمر ایوب خان ،سابق وزیرقانون پنجاب راجہ بشارت اور ایم این اے احمدچٹھہ شامل ہیں ، انہیں رات کوتھانہ سول لائنزمنتقل کردیاگیا،ذرائع کاکہنا ہے کہ ان کے خلاف ضلع اٹک کے تھانہ انجرا،حسن ابدال اور حضرو میں دہشت گردی کے تحت مقدمات درج ہیں ،ان کی گرفتاری کے حوالے سے ڈی پی او اٹک نے واٹس ایپ پر راولپنڈی پولیس سے رابطہ کیا ،پی ٹی آئی رہنماؤں کو لینے کے لئے اٹک پولیس کے انسپکٹر مظہر حسین راولپنڈی پہنچ گئے جوانہیں رات گئے اپنے ہمراہ اٹک لے جائیں گے ،جب کہ پی ٹی آئی کےکارکن ماجد دھنیال اور ملک عظیم کو تھانہ دھمیال پولیس نے گرفتار کر لیا ہے دونوں کارکنوں کو انسپکٹر افضل گرفتارکرکے اپنے ہمراہ لے گئے ،جیل کے باہرگفتگوکرتے ہوئے عمر ایوب کے وکیل رانا مدثر نے کہا کہ عمرایوب اور راجہ بشارت کو اڈیالہ جیل چوکی والوں نے حراست میں لیا،ان کاکہناتھاکہ ابھی معلوم نہیں کہ انہیں کس کیس میں گرفتارکیاگیاہے۔ دوسری طرف عدالت نے عمران خان کی طرف سے مقدمہ سیشن کورٹ منتقل کرنے کی درخواست بھی وکلاء کے دلائل سننے کے بعد خارج کر دی، گزشتہ روز اڈیالہ جیل میں سماعت کے موقع پر جب سابق چیئرمین کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا اس موقع پر عمر ایوب، شیخ رشید، فواد چوہدری، ملک احمد چٹھہ، زرتاج گل، راجہ بشارت سمیت دیگر بھی موجود تھے، فرد جرم میں عائد الزامات کے مطابق تحریک انصاف کی قیادت نے سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے منظم منصوبہ بندی کے بعد پرتشدد مظاہروں سے حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جو دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے، جی ایچ کیو پر حملہ سنگین جرم ہے، حکومت پنجاب کی رپورٹ کے مطابق 9مئی واقعات کے دوران درجنوں گاڑیوں سمیت سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا،ادھر سپیشل جج سنٹرل اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ ٹو کیس میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزمہ بشریٰ بی بی کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ، عدالت نے ضامن کو بھی نوٹس جاری کر دیا جس میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر کیوں نہ شورٹی بانڈ ضبط کر لئے جائیں ، آئندہ سماعت 9دسمبر کو ہو گی۔ گزشتہ روز سپیشل جج سنٹرل اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی اور انکی اہلیہ کیخلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر ملزمہ بشریٰ بی بی موجود نہیں تھیں۔ جج شاہ رخ ارجمند نے وکلا سے استفسار کیا کہ بشریٰ بی بی کہاں ہیں؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے گزشتہ سماعت پر یقین دہانی کروائی تھی کہ بشریٰ بی بی عدالت پیش ہوں گی۔ اس پر وکیل صفائی عثمان گل نے کہا کہ بشریٰ بی بی پر متعدد ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں ، کچھ میں حفاظتی ضمانت لے لی ہے ، وہ مزید مقدمات میں ضمانت لینے عدالت گئی ہیں ، ٹرائل میں مکمل تعاون کریں گے ، پیر کو یا بشریٰ بی بی خود پیش ہو جائیں گی یا ان کا پلیڈر مقرر کر دیا جائے گا ، رائے سلمان امجد کو 190 ملین پاونڈز ریفرنس میں بشریٰ بی بی کا پلیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس پر سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ یہ سماعت توشہ خانہ ٹو کیس کی ہو رہی ہے ، اس کیس کی بات کریں ، آج دسویں سماعت ہے مگر فرد جرم عائد نہیں ہو رہی ، عدالت سے استدعا ہے کہ بشریٰ بی بی کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جائیں ، اگر بشریٰ بی بی نہیں آتی تب بھی ٹرائل کو روکا نہیں جا سکتا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بشریٰ بی بی کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے ، ان پر متعدد ایف آئی آرز بھی درج ہو چکی ہیں ، عدالت نے رحم دلی کے ساتھ انصاف کرنا ہوتا ہے ، عدالت ایک تاریخ دیدے ، آئندہ سماعت پر بشریٰ بی بی پیش ہو جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے کیسز فاسٹ ٹریک پر چلائے جا رہے ہیں۔ سپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ بشریٰ بی بی عدالت پیش نہ ہونے پر مزید ریلیف کی مستحق نہیں ، ضمانت ملنے کے بعد بشریٰ بی بی 10 سماعتوں میں سے صرف دو سماعتوں پر پیش ہوئیں ، کیا عدالت کا یہ رویہ رحم دلانہ نہیں؟ کئی مواقع دئیے جانے کے باوجود بشریٰ بی بی عدالت پیش نہیں ہوئیں۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی اور مذکورہ احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت منسوخی کی ایف آئی اے کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ ہفتے تک جواب طلب کر لیا ہے ۔ گزشتہ روز جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی۔ اس موقع پر ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے موقف اپنایا کہ بشریٰ بی بی اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملنے والی ضمانت کا غلط استعمال کر رہی ہیں ، لہٰذا ان کی ضمانت منسوخ کی جائے۔احتساب عدالت نے 190ملین پاونڈز ریفرنس میں ملزمہ بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھتے ہوئے سماعت بغیر کسی کارروائی کے آج تک ملتوی کر دی۔ گزشتہ روز احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں ریفرنس کی سماعت کی۔ اس موقع پر ملزمہ عدالت میں پیش نہیں ہوئیں جس پر عدالت نے بشریٰ بی بی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری اور ضمانتی کو نوٹس کا پرانا حکم برقرار رکھتے ہوئے سماعت بغیر کسی کارروائی کے آج تک ملتوی کر دی۔