جوڈیشل کمیشن کا آج کا اجلاس موخر کیا جائے، جسٹس منصور کا چیف جسٹس کو خط

06 دسمبر ، 2024

اسلام آباد (خبر نگار) سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے جوڈیشل کمیشن کا 6 دسمبر کا اجلاس موخر کرنے کیلئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا ۔ جسٹس منصور نے خط میں کہا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت کی گئی ، اس ترمیم کیخلاف دو درجن سے زائد درخواستیں سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں ، یہ درخواستیں منظور بھی ہو سکتی ہیں اور مسترد بھی ، اگر 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستیں منظور ہوتی ہیں تو جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی وقعت ختم ہو جائے گی۔ ایسی صورتحال ادارے اور ممبران کیلئے شرمندگی کا باعث بنے گی۔ 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ کر کے جوڈیشل کمیشن کی قانونی حیثیت کا ہمیشہ کیلئے فیصلہ کیا جا سکتا ہے ،ایسی صورتحال کو پیدا ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل دے کر رجسٹرار سپریم کورٹ کو درخواستیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دیں اور 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں کے فیصلے تک جوڈیشل کمیشن کا اجلاس موخر کیا جائے۔ جسٹس منصور نے خط میں کہا ہے کہ جسٹس منیب اختر اور میں نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے اکثریتی ممبران ہونے کے ناطے 31 اکتوبر کے اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس کے باوجود رجسٹرار نے اب تک ان درخواستوں کو فل کورٹ کے سامنے سماعت کیلئے مقرر نہیں کیا ۔ 26 ویں ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ ہونا انتہائی ضروری اور بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ آرٹیکل 191 (اے) تحت سپریم کورٹ کے ریگولر بنچ آئینی درخواستیں نہیں سن سکتے تاہم یہی آرٹیکل سپریم کورٹ کے فل کورٹ بنچ کو کسی بھی معاملے بشمول آئینی درخواستوں پر سماعت سے نہیں روکتا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ 6 دسمبر کے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سندھ اور پشاور ہائیکورٹس میں اضافی ججز کی تعیناتی کا معاملہ زیر غور آنا ہے۔ موجودہ کمیشن نے بغیر کسی معیار کی جانچ پڑتال اور تشخیص کے سپریم کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بنچز کیلئے ججز نامزد کئے۔ یہ نامزدگیاں صرف اور صرف ایگزیکٹو کے ووٹ کی طاقت کی بنیاد پر ہوئیں جو انہیں 26 ویں آئینی ترمیم کی بدولت جوڈیشل کمیشن میں حاصل ہوئی۔ آئینی بنچز کیلئے یہ نامزدگیاں معقول وجوہات اور منطقی بنیادوں سے خالی تھیں۔ جوڈیشل کمیشن کے ان اجلاسوں کی روداد بھی پبلک نہیں کی گئیں۔ آرٹیکل 19 (اے) عوام کو عوامی معاملات پر معلومات فراہم کئے جانے کا حق دیتا ہے۔