قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آئندہ ہفتے بلائے جانے کا امکان

06 دسمبر ، 2024

اسلام آباد(فاروق اقدس/تجزیاتی جائزہ)قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آئندہ ہفتے بلائے جانے کا امکان، بانی پی ٹی آئی ، ڈی چوک واقعہ اور اراکین قومی اسمبلی کیخلاف مقدمات اور گرفتاریوں پر اجلاس ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے ،مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ قومی اسمبلی کا آئندہ اجلاس جو اگلے ہفتے ہو رہا ہے ایوان میں ہونے والی اپنی مجموعی کارروائی کے حوالے سے انتہائی اہم ہوگا، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور انتہائی ناخوشگوار واقعات کے تناظر میں قراردادیں، نکتہ اعتراضات سمیت حکومتی ارکان کی جانب سے پیش کی جانے والی تحاریک پر قانون سازی کی جائے گی۔ امکانی طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کی شام 5بجے متوقع ہے۔ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی گرفتاریاں ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر مقدمات، اڈیالہ جیل میں پارٹی کے چیئرمین عمران خان کی حکومت کے خلاف فائنل کال کے موقع پر اسلام آباد میں ہونے والے تشدد کے خونی واقعات کے حوالے سے بھی ایوان میں ہنگامہ آرائی کے خدشات موجود ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے اس صورتحال کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ ذرائع کے مطابق اس صورتحال سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے حکمت عملی وضع کئے جانے پر بھی مشاورت کا آغاز ہوگیا ہے۔ یاد رہے قومی اسمبلی کا گزشتہ اجلاس 5نومبر کو ہواتھا۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی رواں ماہ کے وسط میں متوقع ہے۔ یاد رہے گزشتہ روز چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات میں مدارس بل پر صدر مملکت کے دستخط نہ کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق مولانا نے آئندہ ’کسی بھی قسم کا تعاون‘ مدرسہ رجسٹریشن بل کی منظوری سے مشروط کر دیا ہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مدرسہ رجسٹریشن بل منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، اس بل کو صدر مملکت نے اعتراض لگا کر واپس بھجوا دیا تھا۔اس سلسلے میں گزشتہ شب بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی، جس میں مدارس کی رجسٹریشن کے بل کے معاملے پر بات کی گئی۔ بلاول بھٹو نے مولانا فضل الرحمان کو مدارس کی رجسٹریشن پر بریفنگ دی تھی جبکہ اس سے قبل دونوں سیاسی رہنماؤں کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہو اتھا، دونوں رہنماؤں کی ملاقات 2گھنٹے تک جاری رہی جس کے بعد بلاول بھٹو میڈیا سے گفتگو کئے بغیر روانہ ہوگئے تھے۔