صدرزرداری کی جانب سے مدارس رجسٹریشن وزیراعظم آفس کو واپس بھیجنے پر جے یو آئی اور حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے

06 دسمبر ، 2024

کراچی(جمشیدبخاری)صدرمملکت آصف علی زرداری کی جانب سے مدارس رجسٹریشن بل پر اعتراضات لگاکر وزیراعظم آفس کو واپس بھیجنے پر جے یو آئی اور حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے اس ضمن میں جے یو آئی کے مرکزی رہنماحافظ حمداللہ پہلے ہی واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ اگر دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدرمملکت نے بل پر دستخط نہیں کئے تو یہ معاملے ڈنڈے اور ڈائیلاگ سے بھی حل نہیں ہوگا،پی پی پی کے وفد جس کی قیادت بلاول بھٹو کررہے تھے انہوںنے بدھ کو مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرکے مدارس رجسٹریشن بل پر دستخط کروانے کی یقین دہانی کروائی تھیں صدر مملکت کے اعتراضات لگاکر بل واپس کے بعد اب یہ قانون پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ہی منظورہوسکتا ہے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بل صوبائی معاملہ ہے اس لیے تمام صوبوں کو یہ بل پاس کرنا ہوگا یہ بل پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) نے مل کر پاس کروایا تھا اس ضمن میں وفاقی مدارس کے ناظم اعلی ٰقاری حنیف جالندھری نے جنگ سے گفتگو میں فون پر کہاکہ مدارس رجسٹریشن بل پر مذاکرات اور رابطوں کے نتیجے میں ایک مسودے پر اتفاق بھی ہو گیا تھاجس میں وزارتِ تعلیم کے اور اسی شعبے کو جو مدارس کے لیے قائم کیا گیا تھا؛ ان کی تجاویز کو بھی لیا گیا، اور انہیں اس مسودے میں شامل کیا گیا ، اسے خواندگی کے لیے دونوں ایوانوں سے بھی منظور کرایا گیا تاکہ یہ با قاعدہ قانون بن جائے ، پھر کیا وجہ ہوئی کہ اچانک اس پر عمل درآمد روک دیا گیا؟ اصل بات جو ہے وہ یہ کہ اس میں رکاوٹ کون بنا؟ یقیناً اس میں کچھ عالمی اداروں کی مداخلت بھی ہے، جسے چھپایا جارہا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہم متعلقہ فریق ہیں ، ہمارے تحفظات کو سامنے رکھ کر بات کی جائے۔ اور اگر کسی عالمی ادارے کی طرف سے مسئلہ ہے تو ہم اس کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے لیے بھی تیار ہیں ۔