توشہ خانہ، عمران، بشریٰ پر فرد جرم عائد، خصوصی عدالت میں سماعت، ملزمان کمرہ عدالت میں موجود

13 دسمبر ، 2024

راولپنڈی (رپورٹ/عاصم جاوید)توشہ خانہ ٹو کیس کے ملزمان بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فرد عائد جرم کر دی گئی۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔ عدالت نے سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے استغاثہ کے گواہ بیان ریکارڈ کرانے کیلئےطلب کرلیے۔ گزشتہ روز توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت سپیشل جج سنٹرل اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل کے کمرہ عدالت میں کی۔ اس موقع پر کیس کے ملزم بانی پی ٹی آئی کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا جبکہ ملزمہ بشریٰ بی بی خود عدالت میں پیش ہوئیں۔ دوران سماعت جج شاہ رخ ارجمند نے ملزمان کیخلاف چارج شیٹ پڑھ کر سنائی۔ ملزمان نے صحت جرم تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس پر عدالت نے استغاثہ سے شہادتیں طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کر دی۔ادھر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے توشہ خانہ ٹو کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست ہدایات اور عدالتی آبزرویشن کے ساتھ نمٹا دی ، عدالت نے کہاکہ اگر ضمانت کی رعایت کا ملزم غلط استعمال کرے تو ٹرائل کورٹ بھی ضمانت منسوخ کر سکتی ہے، ٹرائل کورٹ کے جج کے پاس اختیار ہے کہ اگر بشریٰ بی بی عدالت میں پیش نہیں ہوتیں تو ان کی ضمانت واپس لے سکتا ہے ، یہ ہائی کورٹ کی توہین نہیں ہو گی۔۔ گزشتہ روز بشریٰ بی بی اپنے وکلا بیرسٹر سلمان صفدر ، خالد یوسف چوہدری ، آمنہ علی اور دیگر کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں،ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ بشریٰ بی بی ضمانت ملنے کے بعد ٹرائل کورٹ میں متعدد سماعتوں پر پیش نہیں ہوئیں، بشریٰ بی بی ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کر رہی ہیں لہٰذا ان کی ضمانت منسوخ کی جائے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کدھر ہیں بشری ٰبی بی؟ ۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ بشریٰ بی بی آگئی ہیں اور کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ بشریٰ بی بی آتوگئی ہیں لیکن لگتا ہے وہ آپ کے کنٹرول میں نہیں؟ ان کیسز کو سنجیدہ لینا چاہئے ، اگر وہ ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہوں گی تو ضمانت منسوخی ہی دائر ہو گی۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ٹرائل جلدبازی میں چلایا جا رہا ہے ، پہلے بھی ٹرائل اسی طرح چلائے گئے ، بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت کو مزید بتایا کہ 24 نومبر کو بشریٰ بی بی کیخلاف 25 مقدمات درج ہوئے ، وہ حفاظتی ضمانت کیلئے پشاور ہائیکورٹ پیش ہوئیں ، 161 کے 23 بیانات مجھے 9 دسمبر کو دئیے گئے،ایف آئی اے بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخ کرانے میں ناکام ہو گئی اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہدایات کے ساتھ ایف آئی اے کی بشریٰ بی بی کی ضمانت منسوخی کی درخواست نمٹا دی۔