چینی، تمباکو اور کھاد کی صنعت پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا سنگ میل عبور

13 دسمبر ، 2024

اسلام آباد(تنویر ہاشمی ) ایف بی آر نے تمباکو ، چینی اور کھاد کی صنعت پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی تنصیب کا سنگ میل عبور کر لیا تاہم سیمنٹ سیکٹر پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو پوری طرح لاگو نہیں کیاجاسکا ، سیمنٹ سیکٹر پر 31مارچ 2025تک مکمل طور پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے خود کار نظام کے نفاذ کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے ، ایف بی آرذرائع کے مطابق 15نومبر 2024سے گنے کی کرشنگ کے سیزن سے قبل ملک بھر کی تمام شوگر ملز پر ٹریک اینڈ ٹریس کو کامیابی کیساتھ لاگو کر دیاگیا ہے ، دو شوگر ملز ڈگری شوگر ملز سندھ اور چشمہ شوگر ملز خیبرپختونخواکی پروڈکشن لائنز پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پوری طرح نافذ نہ ہونے کے باعث ان شوگر ملز کو سیل کر دیاگیا تھا بعد ازاں ان دونوں شوگر ملز کی جانب سے تمام پروڈکشن لائنز پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے مکمل نفاذ کےبعد بحال کر دیا گیا ،چینی کی شوگر ملز پر موثر نگرانی کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور پیداوار کی نگرانی کیلئے ویڈیو اینا لیٹکس سسٹم کیساتھ ہوپر سسٹم لگایاگیا ہے، کنسورشیم پارٹنرایل جے سی ایل پاکستان ، ایم آئی ٹی اے ایس کارپوریشن جنوبی افریقہ اور لائسنس اتھنٹیکس یو ایس اےنے ٹر یک اینڈ ٹریس سسٹم نصب کیاہے، ایف بی آر نے شوگر ملز پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی مانیٹرنگ کیلئے انفورسمنٹ افسران کو تعینات کر دیا ہے، سیمنٹ کی صرف چار فیکٹریوں چر اٹ سیمنٹ ، ڈنڈوت ، میپل لیف اورٹھٹھ سیمنٹ میں ٹریک اینڈ ٹریس پر مکمل عملدرآمد کر لیاگیا ہے تاہم ملک کی باقی تمام سیمنٹ فیکٹریوں کی ایک ایک پروڈکشن لائن پر یہ سسٹم نصب ہےباقی پروڈکشن لائنز پر ٹی ٹی ایس کے نفاذ کیلئے کنسورشیم کمپنی کو 31مارچ کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، ایف بی آر نے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کے بعدمالی سال 2023-24میں شوگر سیکٹر کی مقامی سپلائی پر 114ارب روپے کا سیلز ٹیکس اکھٹا کیا جبکہ مالی سال 2022-23میں 81ارب روپے کا سیلز ٹیکس جمع کیا گیا تھا،اس طرح اس میں 41فیصد کا اضافہ ہوا، کھاد کے شعبے میں مجموعی طوپر ریونیو میں 8150فیصد اضافہ ہوا، ایک سال میں مجموعی طو ر پر سگریٹ پر 58فیصد ریونیو میں اضافہ ہوا، ٹریس سسٹم کے نفاذ کےبعد سیمنٹ ٹیکس ریونیومیں 38فیصد اضافہ ہوا ۔