وزرا دوسرے روز بھی ایوان سے غائب ؛حکومت پر تنقید، PPP/PTIیک زبان

13 دسمبر ، 2024

اسلام آباد ( رانا غلام قادر)قومی اسمبلی میں مسلسل دوسرے روز وزراکی غیر حاضری کا ایشو زیر بحث رہا اور ڈپٹی سپیکر غلام مصطفیٰ شاہ نے بغیر کسی کا روائی کے اجلاس کی کا روائی ملتوی کردی۔ حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔کوئی وزیر اور پار لیمانی سیکرٹری نہیں اسدقیصر ، ایوان کی تذلیل ہو رہی ہے،اپو زیشن لیڈر ، وزرا کی ڈیوٹی ہے کہ ایوان میں موجود ہوں،یہ کابینہ کی اجتماعہ ذمہ داری ، نوید قمر دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اپو ز یشن جماعت پی ٹی اآئی نے حکومت پر تنقید کی تو حکومت کی اتحادی جما عت پیپلز پارٹی بھی ان کے سا تھ یک زبان ہوگئی ۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قومی سپیکر مصطفی شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔تلاوت کلام پاک حدیث اور قومی ترانے کے بعد ڈپٹی سپیکر نے وقفہ سوالات کا آغاز کیا۔نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے سابق سپیکر اور پی ٹی اآئی کے رہنمااسد قیصر نے کہا کہ وقفہ سوالات جاری ہے اور پورا ایوان خا لی ہے۔ کل کی طرح آج بھی وزرا اور پارلیمانی سیکرٹیز موجود نہیں ہیں تو ممبران کے سوالات کا جواب کون دے گا؟؟۔یہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے ڈپٹی سپیکر سے کہا کہ احتجا جا پانچ منٹ کیلئے اجلاس کو موخر کردیں۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفی شاہ نے کہا کہ کل بھی وقفہ سوالات میں وزرا کی حاضری نہیں تھی ۔بزنس ایڈوائزری کے اجلاس میں طے پایا تھا کہ اجلاس مقررہ وقت پر شروع ہو گا۔وزراحاضر ہوں گے۔ کل بھی میں نے ابزرویشن دی تھی کہ وزرا کی عدم موجودگی پر وزیر اعظم کو خط لکھیں گے۔ ڈپٹی سپیکر ایوان میں وزرا اورپارلیمانی سیکرٹریز کی عدم حاضری پر وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے وزرا اور پارلیمانی سیکرٹریز ایوان میں موجود نہ ہوئے تو ایوان کی کارروائی نہیں چلائی جائے گی۔حکومت کی اتحادی جما عت پیپلز پارٹی کے ایم این اے اآ غا رفیع اللہ نے ڈپٹی سپیکر کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے اور کہا کہ اآپ اپنی عزت کا خیال رکھیں اور ہماری بھی عزت رکھیں اور کاروائی کو ملتوی کرد یں۔ پی ٹی اآئی کے ایم این اے رائے حسن نواز نے کہا کہ کوئی جواب دینے والا نہیں ہے۔ یہ مذاق ہے۔ڈپٹی سپیکر نے پندرہ منٹ کیلئے کا روائی ملتوی کردی ۔ پندرہ منٹ پر اجلاس کی کاروائی دو بارہ شروع کی گئی تو وزرا بدستو ر غیر حاضر تھے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم این اے سید نوید قمر نے دوبارہ یہی معاملہ اٹھایا کہ وفاقی وزرا اور سیکرٹریز کی عدم موجودگی میں وقفہ سوالات کیسے چلایا جا سکتا ہے۔کابینہ اجتماعی طور پر اسمبلی کو جوابدہ ہے۔ وزرا کی ڈیوٹی ہے کہ ایوان میں موجود ہوں۔ انہوں نے ڈپٹی سپیکر سے کہا کہ اآپ کی جانب سے سخت رولنگ اآنی چا ہئے۔ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ کل بھی میں نے رولنگ دی تھی کہ وزیر اعظم کو خط لکھیں گے ۔حکومت غیر سنجیدہ ہے۔ اگر وزرا نہیں اآئیں گے تو ہم اجلاس ملتوی کر دیں گے۔شازیہ مری نے کہا کہ کل ایک ووزیر صاحب نے یقین د ہانی کرائی تھی تو ان کی یقین د ہانی بھی انتہائی کمزور تھی۔نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمرایوب نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں سے وزرا اور پارلیمانی سیکریٹریزکی عدم حاضری کی نشاندہی کی جارہی ہے۔کوئی وزیر یہاں پر موجود نہیں ہے۔ ہم لوگ یہاں کس لئے اآتے ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ حکومت ہے ؟؟۔ یہ کیا ہے ؟؟۔اس ایوان کی تذلیل ہو رہی ہے۔ڈپٹی سپیکر نے ریمارکس دیئے کہ اس صورتحال سے متعلق وزیراعظم کو خط لکھ رہے ہیں۔انہوں نے ایجنڈا موخر کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی اآج ( جمعہ) گیارہ بجے تک ملتوی کردی۔