مقامی حکومتوں کیلئے آئینی ترمیم پراتفاق کی کوششیں کررہےہیں، احسن اقبال

13 دسمبر ، 2024

اسلام آباد(مہتاب حیدر) حکومت مقامی حکومتوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کے مالی وسائل کو متعلقہ صوبائی فنانس کمیشنز (PFCs) کے ذریعے یقینی بنانے کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر کام کر رہی ہے۔"ہم دیگر جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے پر کام کر رہے ہیں تاکہ آئینی ترمیم کے ذریعے مقامی حکومتوں کو تحفظ اور ان کے مالی وسائل کو متعلقہ صوبائی فنانس کمیشنز کے ذریعے یقینی بنایا جا سکے،" وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعرات کی رات دی نیوز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی۔اس سے قبل، منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے جمعرات کو خیبر پختونخوا اور مردان کی لوکل کونسل ایسوسی ایشن کے 15 رکنی وفد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وفاقی وزیر کو خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتوں کے مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وفد نے وزیر کو بتایا کہ صوبے میں مقامی حکومتیں تین سال سے زائد عرصے سے مفلوج ہیں اور پی ٹی آئی حکومت نے صوبے میں 30 ہزار منتخب مقامی حکومت کے نمائندوں کو کوئی انتظامی اور مالی مدد فراہم نہیں کی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے عوام کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ مقامی حکومتیں صحت، تعلیم اور بلدیاتی انتظامیہ سے متعلق مسائل کو کتنی مؤثر طریقے سے حل کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو دیے گئے اختیارات مؤثر طور پر مقامی حکومتوں کو منتقل نہیں کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاق کی طرف سے صوبوں کو دیے گئے اختیارات کا حساب لیا جائے تو مقامی حکومتوں کی کارکردگی واضح ہو جائے گی۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی حکومتوں کو وہی مدد ملنی چاہیے جو صوبائی حکومتوں کو دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر صوبے میں اختیارات کا ارتکاز اوپری سطح پر ہے، جنہیں فوری طور پر نچلی سطح پر منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، صحت اور بلدیاتی خدمات کی حالت خراب ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں پنجاب میں 50 ہزار مقامی حکومتیں ختم کر دی گئیں، جو عوام کو ایک بڑا نقصان پہنچانے کے مترادف تھا۔مقامی حکومت کے نمائندوں کے وفد نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ منتخب مقامی حکومت کے نمائندے اپنے حقوق کے لیے 17 دسمبر کو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج بھی کریں گے۔ وفاقی وزیر نے اس احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ان کے آئینی اور قانونی اختیارات اور حقوق کی مکمل حمایت کرے گی ۔