سٹاک مارکیٹ، ایک سال میں 58 فیصد اضافہ ہوا ، عارف حبیب

13 دسمبر ، 2024

اسلام آباد ( رپورٹ حنیف خالد) پاکستان کے معروف سرمایہ کار اور ملکی سٹاک مارکیٹ کے مسلمہ لیڈر عارف حبیب نے کہا ہے کہ سٹاک مارکیٹ، ایک سال میں 58 فیصد اضافہ ہوا ہے مالیت 4 ہزار آٹھ سو ارب روپے یا 18 ارب ڈالر، تاریخی کامیابی ہے معاشی صورت حال میں بہتری ، بیرونی سرمایہ کار واپس آئیں گے تمام کاروباری افراد امید کرتے ہیں کہ سیاسی اختلافات اتفاق رائے سے حل ہوں گے، وہ جنگ گروپ کے سینئر صحافی کو خصوصی انٹرویو دے رہے تھے ، عارف حبیب نے کہا کہ جمعرات 12 دسمبر کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کا-100 انڈیکس ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے 1,14,180 پوائنٹس سے بھی اوپر پہنچ گیا ہے۔ انڈیکس صرف چند دنوں میں 100,000 سے100 انڈیکس ایک لاکھ 14 ہزار 180 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ KSE-100 انڈیکس نے سال کے آغاز میں 46,000 پوائنٹس سے تقریباً 1,14,180 پوائنٹس تک کا سفر کیاجو کہ 64,800پوائنٹس کا اضافہ ہے، یعنی اس کیلنڈر سال میں انڈیکس میں تقریباً 58 فیصد اضافہ ہوا۔ عارف حبیب نے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ مالی لحاظ سے یہ اضافہ تقریباً 4,800 ارب یا 8 .4 ٹریلین روپے سے بہت زیادہ ہے، جو اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنیوں کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 51 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ ڈالر کے لحاظ سے، یہ اضافہ تقریباً 53 فیصد ہے، جو کہ 18 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ تمام حصص یافتگان کی مجموعی مالیت اس کیلنڈر سال میں 18 ارب ڈالر بڑھ گئی ہے۔ یہ ایک تاریخی کامیابی ہے، جو مارکیٹ کی شاندار کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اس کی بنیادی وجہ پاکستان کی معاشی استحکام میں نمایاں بہتری ہے۔ مثال کے طور پر، مہنگائی اب تقریباً 5 فیصد تک کم ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں شرح سود بھی 22 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد تک آ گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ اب 15 فیصد ہے، اوربروز پیر، 15 دسمبر کو اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے ہونے والے اجلاس میں 13فیصد متوقع ہے کہ شرح سود کم از کم 2 فیصد اور ممکنہ طور پر 3 فیصد تک کم کی جائے گی۔ کائبور ریٹ پہلے ہی کم ہو چکا ہے، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ شرح سود مزید کم ہو سکتی ہے۔ عارف حبیب نے کہا کہ اس سے فکسڈ انکم انو سٹمینٹ کی سرمایہ کاری یا بینک ڈپازٹس کے منافع میں کمی آئی ہے، لہذا سرمایہ کار اپنی رقم فکسڈ انکم انوسٹمینٹ سیکیورٹیز یا حکومتی سیکیورٹیز سے نکال کر اسٹاک میں سرمایہ لگا رہے ہیں۔ اس نے اسٹاک مارکیٹ میں طلب پیدا کی ہے، جس کی وجہ سے مارکیٹ میں تیزی آئی ہے۔توقع کی جا رہی ہے کہ شرح سود میں کمی جاری رہے گی، جس سے کمپنیوں کے مالی اخراجات کم ہوں گے اور ان کے سودی اخراجات میں کمی آئے گی۔ شرح سود میں کمی کے ساتھ لوگوں کی خریداری کی صلاحیت بھی بڑھے گی۔ مثال کے طور پر، کریڈٹ کارڈ سے خرید و فروخت ، گاڑیوں، اور دیگر اشیاء کی مانگ، جو بلند شرح سود کی وجہ سے کم ہو گئی تھی، دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ لوگوں کے لیے بلند شرح سود پر حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرنا یا روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ڈالر اور سونا خریدنا آسان تھا۔ تاہم، ایک سال سے زائد عرصے تک روپے کی قدر میں استحکام کے بعد، غیر ملکی کرنسی کی سرمایہ کاری، سونے کی سرمایہ کاری، یا فکسڈ انکم انو سٹمینٹ سیکیورٹیز میں نسبتاً کم منافع کے نتیجے میں سرمایہ کاری اسٹاک کی طرف منتقل ہو رہی ہے، خاص طور پر ان کمپنیوں میں جو اچھا منافع کما رہی ہیں۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوے کہا کہ ایک اور اثاثہ کی قسم، جائیداد (ریئل اسٹیٹ) میں بھی شرح سود میں متوقع کمی کی وجہ سے کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، اور یہ مستقبل میں سرمایہ کاروں کے لیے بہتر مواقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا مزید برآں، آئی ایم ایف پروگرام نے ہمارے بیرونی کھاتے کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو ایک وقت میں ڈیفالٹ کے ممکنہ خطرے کی زدمیں تھا۔ اب، آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ، لوگوں کو زیادہ اعتماد ہے کہ پاکستان کے ڈیفالٹ کا خطرہ کم ہو گیا ہے۔ عارف حبیب نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک میں ہمارے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو رہا ہے، اور اسٹیٹ بینک نے تاریخی منافع حاصل کیا ہے۔ جب انہوں نے حکومت کو ادائیگیاں کیں، تو اس سے حکومت کی لیکویڈیٹی میں بہتری آئی، جس نے انہیں اپنے قرضے کم کرنے میں مدد دی۔ اس کے نتیجے میں بقول عافیہ حبیب ملکی برآمدات میں اضافہ ہوا اور ترسیلات زر میں بہتری آئی۔ تمام اقتصادی اشاریے اب درست سمت میں جا رہے ہیں، جو کے ایس ای-100 انڈیکس کی ترقی میں نظر آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نتیجتاً، پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر ہو رہی ہے، اور میرا ماننا ہے کہ کارپوریشنزمیوچل فنڈز کے ساتھ، حالیہ دنوں میں اسٹاک خرید رہی ہیں۔ گو کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اپنی زیادہ تر سرمایہ کاری فروخت کر دی ہے، لیکن مجھے یقین ہے کہ بیرونی سرمایہ کار واپس آئیں گےاور اس کے نتیجے میں میوچل فنڈز اور دیگر ادارہ جاتی سرمایہ کار، جیسے انشورنس کمپنیاں اور بینک زیادہ سرمایہ کاری کریں گے۔ اسٹاک ایکسچینج میں نئی کمپنیوں کی تعداد بھی بڑھے گی، جو عوام کو ان نئی کمپنیوں میں حصص خریدنے اور بیچنے کے مواقع فراہم کرے گی، اور یہ سرمایہ صنعتی ترقی اور نئے کاروباروں کی تشکیل کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ عرف حبیب نے سوال کہ جواب دیتے ھوئے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج کا حتمی مقصد نئی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا اور نئی صنعتوں کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ اس کے ساتھ، ریئل اسٹیٹ ڈیولپمنٹ یا تعمیراتی شعبے میں بہتری مزید ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گی۔اس کے علاوہ، تعمیراتی سامان کی طلب میں اضافے سے ٹیکس میں اضافہ ہوگا، جس سے حکومت کو فائدہ پہنچے گا۔ اگر حکومت نظم و ضبط کے راستے پر چلتی رہے اور مہنگائی کو کنٹرول کرتی رہے، تو عام لوگوں کے فائدے کے لیے موجودہ مہنگائی کو کم کرنے کے لیے انتظامی اقدامات کرنا ضروری ہوگا۔